بیلجیئم دھماکے: دو افراد پر ’دہشت گردانہ قتل‘ کا الزام

22 مارچ کو میٹرو سٹیشن پر کیے جانے والے حملے میں مبینہ طور ہر ملوث دو افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن22 مارچ کو میٹرو سٹیشن پر کیے جانے والے حملے میں مبینہ طور ہر ملوث دو افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں 22 مارچ کو ہونے والے بم دھماکوں کی تحقیقات کے نتیجے دو افراد پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ افراد ایک ایسے سیف ہاؤس سے منسلک ہیں جو حملہ آوروں نے استعمال کیا تھا۔

افسرانِ استغاثہ نے ’اسماعیل ایف‘ اور ’ابراہیم ایف‘ نامی دو بھائیوں کی شناخت کی۔

برسلز کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور میل بیک میٹرو سٹیشن پر تین خودکش حملہ آوروں نے حملے کیے تھے جن میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دیگر دو مشتبہ حملہ آوروں کو جمعے کے روز گرفتار کیا گیا۔

مدعی کے مطابق محمد آبرینی نے تسلیم کیا ہے کہ وہ حملے کی تصاویر میں ’ہیٹ پہننے والے شخص‘ تھے، یعنی وہ تیسرا حملہ آور جس نے اپنا بم نہیں اڑایا اور فرار ہو گئے۔

’ہیٹ پہنے ہوئے شخص‘ وہ تیسرے حملہ آور تھے جو اپنا بم اڑائے بغیر فرار ہو گئے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن’ہیٹ پہنے ہوئے شخص‘ وہ تیسرے حملہ آور تھے جو اپنا بم اڑائے بغیر فرار ہو گئے

خیال کیا جاتا ہے کہ سویڈش شہری اسامہ کریم حملہ آور خالد البکراوی کے ہمراہ میل بیک حملے کے دوران میٹرو سٹیشن پر موجود تھے۔

اسماعیل ایف اور ابراہیم ایف بظاہر ایک روز بعد گرفتار کر لیے گئے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایک بھائی نے برسلز کے مرکزی علاقے ایتر بیک میں ایک گھر کرائے پر لیا تھا جسے حملہ آور اسامہ کریم اور خالد البکراوی نے میٹرو سٹیشن پر حملے سے قبل استعمال کیا تھا۔

ایونیو دے کاسیرنیس نامی گلی میں واقع ایک گھر پر ہفتے کے روز چھاپہ مارا گیا تھا، تاہم وہاں سے دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار نہیں ملے۔

ایک بیان میں استغاثہ نے کہا کہ ’ان پر دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیوں اور دہشت گرد قتل میں مجرم یا شریک مجرم کے طور پر ملوث ہونے کا الزام عائد ہے۔‘