برسلز حملوں کا مشتبہ ملزم عدم شواہد کے باعث رہا

بیلجیئم کے میڈیا میں اس شخص کی شناخت ایک فری لانس صحافی کے طور پر کی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبیلجیئم کے میڈیا میں اس شخص کی شناخت ایک فری لانس صحافی کے طور پر کی ہے

بیلجیئم نے برسلز حملوں میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار ایک شخص فيصل شيفو کو ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے رہا کر دیا ہے۔

بیلجیئم کے میڈیا نے اس شحض کا نام فيصل شيفو بتایا ہے اور کہا ہے کہ یہی وہ تیسرا پر اسرار شخص تھا وہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں خودکش بمباروں کے ساتھ دکھائی دیا تھا۔

<link type="page"><caption> برسلز حملے، مبینہ ملزم پر فردِ جرم عائد</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/03/160326_brussels_attacks_abdeslam_silent_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

گذشتہ منگل کو برسلز میں ایئر پورٹ اور میٹرو سٹیشن پر ہونے والے حملوں میں 35 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 300 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔

ان حملوں کی ذمہ داری نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

ایک بیان میں بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر کے دفتر کا کہنا تھا ’فیصل شیفو کی گرفتاری کا باعث بننے والے شواہد مجسٹریٹ کی جانچ پڑتال میں مزید تفتیش میں مصدقہ ثابت نہیں ہوئے جس کے نیتجے میں ملزم کو رہا کیا گیا ہے‘۔

ان پر دو دن قبل پر ’دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے، دہشت گردی کے تحت قتل اور اقدامِ قتل‘ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

بیلجیئم کے میڈیا میں اس شخص کی شناخت ایک فری لانس صحافی کے طور پر کی ہے۔

بیلجیئم پولیس نے پیر کو سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی ہے جس میں دو خود کش بمباروں کے ساتھ تیسرا شخص ہلکے رنگ کے لباس میں سیاہ ٹوپی پہنے ہوئے ہے اور تینوں افراد سامان کی ٹرالیز گھسیٹ رہے ہیں۔

پہلے خیال کیا گیا کے تیسرا شخص فرار ہو گیا ہے۔

قوم پرست مظاہرین کے ساتھ اتوار کو ہونے والی جھڑپوں کے بعد پولیس نے برسلز کے چوک پلیس ڈی لا بورس کو بند کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنقوم پرست مظاہرین کے ساتھ اتوار کو ہونے والی جھڑپوں کے بعد پولیس نے برسلز کے چوک پلیس ڈی لا بورس کو بند کر دیا ہے

ادھر قوم پرست مظاہرین کے ساتھ اتوار کو ہونے والی جھڑپوں کے بعد پولیس نے برسلز کے چوک پلیس ڈی لا بورس کو بند کر دیا ہے۔ حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہاں سکیورٹی کا مسئلہ ہے۔

برسلز کے اس مرکزی علاقے پلیس ڈی لا بورس میں سوگ منانے کے لیے ایک عارضی جگہ بنائی گئی جہاں لوگ حملوں میں مرنے والوں کے لیے پھول اور پیغامات رکھتے ہیں۔

مرنے والے 35 افراد میں سے سات کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی۔

مرنے والوں میں کم سے کم 10 غیر ملکی باشندوں کی سناخت ہوئی ہے جن کا تعلق امریکہ، نیدر لینڈز، سویڈن، جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی اور چین سے ہے۔

مرنے والے 35 افراد میں تین حملہ آور شامل نہیں ہیں جن میں سے دو نے خود کو بم سے اڑایا تھا۔

برسلز میں قائم یوپی یونین کے دفاتر حملوں اور بعد ازاں ایسٹر کی چھٹیوں کے بعد منگل کو دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔ تاہم یورپین کمیشن کی نائب صدر کرسٹالینا جیارجیوا نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ یہاں اضافی سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔