گوانتنامو سے درجن بھر قیدی منتقل کرنے کی تیاریاں

قیدیوں کی یہ منتقلی ایک ایسے وقت پر کی جار ہی ہے جب اوباما انتظامیہ نے اس متنازع جیل کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنقیدیوں کی یہ منتقلی ایک ایسے وقت پر کی جار ہی ہے جب اوباما انتظامیہ نے اس متنازع جیل کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے

ا امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کیوبا کی خلیج گوانتنامو میں امریکی فوجی جیل سے تقریباً ایک درجن قیدیوں کو دو مختلف ملکوں میں منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

قیدیوں کی یہ منتقلی ایک ایسے وقت پر کی جار ہی ہے جب اوباما انتظامیہ نے اس متنازع جیل کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے متعلق کہا جاتا رہا ہے کہ جہادی گروپ بھرتی کے لیے اس حراستی مرکز کو بطور اوزار استمال کرتے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق قیدیوں کو آئندہ ہفتوں میں چھوڑا جا سکتا ہے لیکن حکام نے ابھی تک یہ واضخ نہیں کیا ہے کہ رہا کیے جانے والے قیدی کن دو ممالک کو بھیجے جائیں گے۔

سنہ 2002 میں گوانتناموں کی جیل میں 800 سو قیدی ہوا کرتے تھے جن میں سے اب صرف 91 باقی بچے ہیں

،تصویر کا ذریعہMcCoy Reuters

،تصویر کا کیپشنسنہ 2002 میں گوانتناموں کی جیل میں 800 سو قیدی ہوا کرتے تھے جن میں سے اب صرف 91 باقی بچے ہیں

جیل کے ایک متعلقہ افسر نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ جن قیدیوں کو منتقل کیا جا رہا ہے اس میں یمنی قیدی طارق بعدہ بھی شامل ہیں جو بہت دنوں سے جیل میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔

سنہ 2002 میں گوانتناموں کی جیل میں 800 قیدی ہوا کرتے تھے جن میں سے اب صرف 91 باقی بچے ہیں۔

حال ہی میں امریکی صدر براک اوباما کے دفتر نے گوانتانامو کے متنازع امریکی حراستی مرکز کو بند کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

اس سلسلے میں امریکی محکمۂ دفاع نے وہاں زیرِ حراست 91 افراد کو ان کے اپنے ممالک یا امریکی فوج کی جیل اور یا پھر عام شہریوں کے لیے بنی جیلوں میں منتقل کرنے کی تجویز دی تھی۔

انسانی حقوق کی عالمی تنطیمیں بھی اس حراستی مرکز پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کرتی رہی ہیں کہ قیدیوں پر فرد جرم عائد کیے بغیر یا ان پر مقدمہ دائر کیے بغیر ہی انہیں برسوں سے حراست میں رکھا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانسانی حقوق کی عالمی تنطیمیں بھی اس حراستی مرکز پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کرتی رہی ہیں کہ قیدیوں پر فرد جرم عائد کیے بغیر یا ان پر مقدمہ دائر کیے بغیر ہی انہیں برسوں سے حراست میں رکھا گیا ہے

اس جیل پر سالانہ 40 کروڑ 45 لاکھ ڈالر خرچ آتا ہے اور اس حراستی مرکز کی بندش امریکی صدر براک اوباما کے ابتدائی منصوبوں میں شامل رہی ہے۔

گذشتہ ماہ امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ ’یہ ہماری تاریخ میں سے ایک باب کو بند کرنے جیسا ہے۔ یہ اس سبق کی عکاسی کرتی ہے جو ہم نے نائن الیون کے بعد سیکھا۔ ایسا سبق جو ہماری قوم کو آگے بڑھنے میں رہنمائی کرے گا۔‘

انسانی حقوق کی عالمی تنطیمیں بھی اس حراستی مرکز پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کرتی رہی ہیں کہ قیدیوں پر فرد جرم عائد کیے بغیر یا ان پر مقدمہ دائر کیے بغیر ہی انھیں برسوں سے حراست میں رکھا گیا ہے۔