براک اوباما گوانتانامو کی بندش کے لیے پرعزم

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اگر کانگریس نے گوانتانامو کا قید خانہ بند کرنے کے منصوبے کی منظوری نہ دی تو وہ اس سلسلے میں اپنا صدارتی اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔
جمعے کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے سامنے اس قید خانے کی بندش کا ایک منصوبہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ کانگریس اس منصوبے کی منظوری دے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہوا تو وہ اپنے ایگزیکیٹو اختیارات استعمال کر کے بھی اس پر عمل درآمد کر سکتے ہیں۔
امریکی صدر چاہتے ہیں کہ کیوبا کے جزیرے پر قائم یہ جیل ان کے دورِ صدارت میں بند ہو جائے۔
براک اوباما نے یہ بھی کہا کہ انھیں امید ہے کہ آئندہ برس کے آغاز میں اس قید خانے میں مقید افراد کی تعداد 100 سے کم رہ جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ جمعرات کو ہی امریکی ذرائع ابلاغ نے محکمۂ دفاع کے حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ آئندہ چند ہفتوں میں گوانتانامو کے حراستی مرکز سے 17 قیدیوں کی منتقلی کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس منتقلی کے بعد وہاں قید افراد کی تعداد 90 رہ جائے گی جن میں سے بیشتر کی منتقلی کی منظوری دی جا چکی ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر ان 17 افراد کی منتقلی کے بارے میں کانگریس کو پہلے ہی بتا چکے ہیں۔
یہ قید خانہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے آغاز کے بعد سنہ 2002 میں قائم کیا گیا تھا اور یہاں پر ایسے افراد کو قید کیا جاتا تھا جنھیں امریکی حکام ’دشمن جنگجو‘ قرار دیتے تھے۔
گوانتانامو میں پہلی مرتبہ 11 جنوری 2002 کو 20 قیدی لائے گئے اور اس کے بعد سے اب تک یہاں کل 780 افراد قید کیے جا چکے ہیں جن میں سے بیشتر پر نہ تو کوئی الزام عائد کیا گیا اور نہ ہی مقدمہ چلا۔
2015 میں اب تک کے اندازوں کے مطابق 20 افراد کی گوانتانامو سے رہائی عمل میں آ چکی ہے جبکہ 2014 میں اس قید خانے سے 28 قیدی رہا کیے گئے جو صدر اوباما کے سنہ 2009 میں امریکی صدر بننے کے بعد سب سے بڑی تعداد تھی۔.







