گوانتانامو سے 17 قیدیوں کی ’منتقلی‘ کا امریکی منصوبہ

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق محکمۂ دفاع نے آنے والے دنوں میں گوانتانامو کے حراستی مرکز سے 17 قیدیوں کی منتقلی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اس منتقلی کے بعد وہاں قید افراد کی تعداد 90 رہ جائے گی جن میں سے بیشتر کی منتقلی کی منظوری دی جا چکی ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر ان 17 افراد کی منتقلی کے بارے میں کانگریس کو پہلے ہی بتا چکے ہیں۔
سنہ 2007 کے بعد ایک ماہ میں اس متنازع قید خانے سے منتقل کیے جانے والے قیدیوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہوگی۔
یہ قید خانہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے آغاز کے بعد سنہ 2002 میں قائم کیا گیا تھا اور یہاں پر ایسے افراد کو قید کیا جاتا تھا جنھیں امریکی حکام ’دشمن جنگجو‘ قرار دیتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
گوانتانامو میں پہلی مرتبہ 11 جنوری 2002 کو 20 قیدی لائے گئے اور اس کے بعد سے اب تک یہاں کل 780 افراد قید کیے جا چکے ہیں جن میں سے بیشتر پر نہ تو کوئی الزام عائد کیا گیا اور نہ ہی مقدمہ چلا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان قیدیوں کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے تھا اور حال ہی میں یہاں سے آخری برطانوی قیدی 46 سالہ سعودی نژاد شاکر عامر کی رہائی بھی عمل میں آئی ہے جو 13 برس قید کاٹنے کے بعد برطانیہ پہنچے ہیں۔
امریکہ کے محکمۂ دفاع کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ہم نے17 (قیدیوں) کے لیے گھر تلاش کر لیے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ متعدد ممالک ان قیدیوں کو بسانے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم اہلکار نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔ خیال رہے کہ اب تک 50 سے زائد ممالک گوانتانامو سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دے چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر نے کانگریس کو بھی مطلع کر دیا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما چاہتے ہیں کہ کیوبا کے جزیرے پر قائم یہ جیل ان کے دورِ صدارت میں بند ہو جائے۔
2015 میں اب تک کے اندازوں کے مطابق 20 افراد کی گوانتانامو سے رہائی عمل میں آ چکی ہے جبکہ 2014 میں اس قید خانے سے 28 قیدی رہا کیے گئے جو صدر اوباما کے سنہ 2009 میں امریکی صدر بننے کے بعد سب سے بڑی تعداد تھی۔.







