گوانتانامو کے پانچ یمنی قیدی عمان اور ایسٹونیا روانہ

،تصویر کا ذریعہAP
کیوبا میں خلیج گوانتانامو میں قائم امریکی جیل میں قید یمن سے تعلق رکھنے والے پانچ قیدیوں کو 12 برس سے زیادہ عرصے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
ان پانچوں افراد کو القاعدہ سے منسلک ہونے کے شبہ میں پاکستان سے گرفتار کیا گيا تھا۔
امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان پانچ قیدیوں میں سے چار کو آباد کاری کے لیے عُمان اور پانچویں کو ایسٹونیا بھیجا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے ان قیدیوں کو یمن میں عدم استحکام اور غیریقینی صورتحال کی وجہ سے ان کے آبائی ملک نہیں بھیجا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عُمان بھیجے جانے والے چار افراد میں الخضر عبداللہ محمد الیافی، فضل حسین صالح حنتیف، عبدالرحمان عبداالہ الشباتی اور محمد احمد سلام شامل ہیں۔
ایسٹونیا روانہ کیے گئے شخص کا نام احمد عبدالقادر بتایا گیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس نے ان پانچ قیدیوں کے معاملات کا جائزہ لینے کے بعد اتفاق رائے سے ان کی منتقلی کی منظوری دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ پہلا موقع ہے کہ عُمان اور ایسٹونیا نے ایسے کسی قیدی کو قبول کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل دسمبر 2014 کے اوائل میں چار افغان قیدیوں کی آبادکاری کی گئی تھی جبکہ چھ دوسرے قیدیوں کو یوروگوئے اور پانچ کو قزاقستان منتقل کیا گیا تھا۔
پینٹاگون نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ان پانچ یمنی افراد کی رہائی کے بعد گوانتانامو کی جیل میں قیدیوں کی تعداد 122 رہ گئی ہے جن میں سے نصف سے زیادہ کی منتقلی کی منظوری دی جا چکی ہے۔
یہ 2015 میں پہلا موقع ہے کہ گوانتانامو میں قید افراد کی رہائی عمل میں آئی ہے۔
اس سے قبل 2014 میں اس قید خانے سے 28 قیدی رہا کیے گئے جو براک اوباما کے سنہ 2009 میں امریکی صدر بننے کے بعد سب سے بڑی تعداد تھی۔
اوباما اس متنازع قید خانے کو بند کرنا چاہتے ہیں جو کہ گیارہ ستمبر 2001 کو نیویارک میں القاعدہ کے حملوں کے بعد دہشت گردوں کو قید رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔







