گوانتاموبے کا سابق قیدی پھرگرفتار

،تصویر کا ذریعہ
برطانوی پولیس نے نائن الیون کے بعد پاکستان سےگرفتار ہو کر امریکی قید خانے گوانتانوموبے میں تین سال کا عرصہ گزارنے والے برطانوی شہری معظم بیگ کو شام میں مبینہ دہشتگردی کے حوالے سےگرفتار کر لیاگیا ہے۔
پینتالیس سالہ معظم بیگ کو ایک ایسے ٹریننگ کیمپ کا دورہ کرنے کے شبہے میں گرفتار کیاگیا ہے جہاں مبینہ طور پر بیرونی ممالک میں دہشتگردی کے لیے جانے والوں کی تربیت کی جاتی تھی۔
ویسٹ مِڈ لینڈ کی پولیس نے معظم بیگ کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ گرفتاری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ یقینی طور پر قصور وار ہیں۔
پولیس نے معظم بیگ کو برمنگھم کے علاقے ہال گرین سے گرفتار کیا ہے۔ معظم بیگ کے علاوہ جن تین دوسرے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں 36 سالہ شخص کو شرلی کے علاقے سے جبکہ 44 سالہ عورت اور ان کے 20 سالہ بیٹے کو سپارک ہل کے علاقے سے گرفتار کیا گیا۔
برطانوی شہری معظم علی سنہ 2001 میں اپنے خاندان کے ہمراہ افغانستان چلے گئے تھے اور پھر افغانستان میں جنگ شروع ہونے کے بعد وہ پاکستان منتقل ہوگئے تھے۔ انہیں جنوری 2002 میں اسلام آباد سے گرفتار کر کے افغانستان کی بگرام جیل میں ایک سال تک رکھے جانے کے بعد گوانتانوموبے منتقل کر دیاگیا تھا۔
معظم بیگ کو 2005 میں گوانتاموبے سے رہا کردیا گیا تھا۔ ان پر باضابطہ کوئی الزام نہیں لگایاگیا تھا۔
بی بی سی کے ہوم افیئر کی نامہ نگار جون کیلی نے بتایا ہے کہ حالیہ برسوں میں معظم بیگ سرکاری تحویل میں لیے جانے والے اشخاص کے خاندانوں کی مدد کرنے والی تنظیم ’کیج‘ کے ساتھ منسلک تھے۔
جون کیلی نے بتایا کہ برطانوی پولیس نےحالیہ دنوں میں شام کی لڑائی میں شرکت کےلیے جانے والوں کی گرفتاریاں کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا ہےکہ منگل کے روز گرفتار ہونے والے اشخاص کو ویسٹ مڈلینڈز پولیس سٹشین میں رکھا گیا ہے۔







