گوانتانامو سے دو یمنی قیدی رہائی کے بعد گھانا منتقل

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی محکمۂ دفاع حکام کا کہنا ہے کہ کیوبا میں خلیج گوانتانامو کے متنازع حراستی مرکز سے مزید دو قیدیوں کو افریقی ملک گھانا منتقل کر دیا گیا ہے۔
اب تک 50 سے زائد ممالک گوانتانامو سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دے چکے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی قیدی اس مغربی افریقی ملک بھیجا گیا ہے۔
گھانا منتقل کیے جانے والے قیدیوں کا تعلق یمن سے بتایا گیا ہے اور وہ ایک دہائی سے زیادہ قید رہے تاہم اس دوران ان پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ خالد الدھبی اور محمود عمر بن عاطف کی رہائی کی منظوری بالترتیب سنہ 2006 اور 2009 میں دی گئی تھی۔
گھانا کے وزیرِ خارجہ ہانا تیتیہ نے کہا ہے کہ حکومت نے سکیورٹی کلیئرنس کی صورت میں انھیں دو برس تک ملک میں رہنے کی اجازت دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوجی ریکارڈ کے مطابق 1979 میں سعودی عرب میں پیدا ہونے والے محمد عمر بن عاطف کو سنہ 2001 میں افغانستان میں شمالی اتحاد کے فوجیوں نے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا تھا۔
ان کے امریکی وکیل جارج کلارک کے مطابق محمد ایک ’ذہین شخص‘ ہے اور وہ رہائی کے بعد نوکری کرنا اور شادی کرنا چاہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
محمد کے ساتھ رہائی پانے والے خالد الدھبی بھی 1981 میں سعودی عرب میں ہی پیدا ہوئے تھے اور لڑائی میں شرکت کے لیے افغانستان گئے تھے۔
انھیں امریکی حکام نے القاعدہ کا ’ممکنہ رکن‘ قرار دیا تھا۔
اس وقت گوانتانامو کے قید خانے میں 105 قیدی موجود ہیں جن میں سے تقریباً 50 کی رہائی کی منظوری دی جا چکی ہے۔
یہ قید خانہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے آغاز کے بعد سنہ 2002 میں قائم کیا گیا تھا اور یہاں پر ایسے افراد کو قید کیا جاتا تھا جنھیں امریکی حکام ’دشمن جنگجو‘ قرار دیتے تھے۔
گوانتانامو میں پہلی مرتبہ 11 جنوری 2002 کو 20 قیدی لائے گئے اور اس کے بعد سے اب تک یہاں کل 780 افراد قید کیے جا چکے ہیں جن میں سے بیشتر پر نہ تو کوئی الزام عائد کیا گیا اور نہ ہی مقدمہ چلا۔
امریکی صدر براک اوباما چاہتے ہیں کہ کیوبا کے جزیرے پر قائم یہ جیل ان کے دورِ صدارت میں بند ہو جائے۔
سنہ 2015 میں 20 افراد کی گوانتانامو سے رہائی عمل میں آئی جبکہ 2014 میں اس قید خانے سے 28 قیدی رہا کیے گئے جو صدر اوباما کے سنہ 2009 میں امریکی صدر بننے کے بعد سب سے بڑی تعداد تھی۔







