’یمن جاؤں گا ورنہ گوانتانامو سے رہائی نہیں چاہیے‘

اب تک 50 سے زائد ممالک گوانتانامو سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دے چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناب تک 50 سے زائد ممالک گوانتانامو سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دے چکے ہیں

کیوبا میں خلیج گوانتانامو کے متنازع امریکی حراستی مرکز میں 14 سال مقید رہنے والے ایک قیدی نے آزادی کی پیشکش قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یمن سے تعلق رکھنے والے محمد بوازر کو رہائی کے بعد ان کے آبائی وطن کی جگہ کسی دیگر ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تاہم اُن کا کہنا ہے کہ وہ صرف اُس جگہ کے لیے جیل چھوڑیں گے جہاں پہلے ہی اُن کا خاندان موجود تھا۔

تاہم اُن کے وکیل کے مطابق یہ ایک جذباتی ردِعمل ہے اور اُن کے لیے مجوزہ نیا گھر ’ایک بہت اچھی جگہ‘ ثابت ہوگا۔

خیال رہے کہ اس حراستی مرکز سے قیدیوں کی رہائی کے بعد مختلف ممالک میں منتقلی کے عمل میں گذشتہ چند ماہ کے دوران تیزی آئی ہے۔

اب تک 50 سے زائد ممالک گوانتانامو سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دے چکے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما چاہتے ہیں کہ کیوبا کے جزیرے پر قائم یہ جیل ان کے دورِ صدارت میں بند ہو جائے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنامریکی صدر براک اوباما چاہتے ہیں کہ کیوبا کے جزیرے پر قائم یہ جیل ان کے دورِ صدارت میں بند ہو جائے

اب بھی گوانتانامو کے قید خانے میں 91 قیدی موجود ہیں جن میں سے تقریباً 50 کی رہائی کی منظوری دی جا چکی ہے۔

یہ قید خانہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے آغاز کے بعد سنہ 2002 میں قائم کیا گیا تھا اور یہاں پر ایسے افراد کو قید کیا جاتا تھا جنھیں امریکی حکام ’دشمن جنگجو‘ قرار دیتے تھے۔

گوانتانامو میں پہلی مرتبہ 11 جنوری 2002 کو 20 قیدی لائے گئے اور اس کے بعد سے اب تک یہاں کل 780 افراد قید کیے جا چکے ہیں جن میں سے بیشتر پر نہ تو کوئی الزام عائد کیا گیا اور نہ ہی مقدمہ چلا۔

سنہ 2015 میں 20 افراد کی گوانتانامو سے رہائی عمل میں آئی تھی جبکہ 2014 میں اس قید خانے سے 28 قیدی رہا کیے گئے جو صدر اوباما کے سنہ 2009 میں امریکی صدر بننے کے بعد سب سے بڑی تعداد تھی۔

امریکی صدر براک اوباما چاہتے ہیں کہ کیوبا کے جزیرے پر قائم یہ جیل ان کے دورِ صدارت میں بند ہو جائے۔ گذشتہ ہفتے بھی انھوں نے کانگریس سے اس معاملے پر اتفاقِ رائے کے لیے کہا تھا۔