میانمار میں پہلے سویلین صدر نے عہدے کا حلف اٹھالیا

این ڈی ایل کی مرکزی رہنما آنگ سان سوچی قانونی طور پر صدر کے عہدے پر فائز نہیں ہوسکتیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ پس پردہ رہ کر ملک کی رہنمائی کریں گی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناین ڈی ایل کی مرکزی رہنما آنگ سان سوچی قانونی طور پر صدر کے عہدے پر فائز نہیں ہوسکتیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ پس پردہ رہ کر ملک کی رہنمائی کریں گی

50 سال سے زائد عرصے کے بعد میانمارکے پہلے منتخب سویلین صدر ہیٹن کیاو نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

میانمار کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ڈی ایل) کے رہنما ہیٹن کیاو نے صدر تھین سین کی جگہ صدارت کا عہدہ سنبھالا ہے۔ صدر تھین سین نے اپنے گذشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں وسیع پیمانے پر سیاسی اصلاحات متعارف کروائی تھیں۔

این ڈی ایل کی مرکزی رہنما آنگ سان سوچی قانونی طور پر صدر کے عہدے پر فائز نہیں ہوسکتیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ پس پردہ رہ کر ملک کی رہنمائی کریں گی۔

گذشتہ سال نومبر میں ہونے والے انتخابات میں این ڈی ایل کی بھاری اکثریت کے ساتھ فتح کے بعد اب قیادت کی منتقلی کا عمل مکمل ہوجائے گا۔

کئی دہاییوں کے عسکری دور حکومت کے خاتمے کے بعد سنہ 2011 میں تھین سین نے ایک نیم سویلین حکومت کے صدر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا تھا۔ میانمار میں سیاسی اصلاحات شروع کرنے کے عمل کا آغاز صدر تھین سین نے ہی کیا تھا۔

یاد رہے کہ میامنار کو اس کے پرانے نام برما سے بھی پہچانا جاتا ہے۔

گذشتہ سال ہونے والے انتخابات کو ملک کے تاریخی اور سب سے شفاف انتخابات سمجھاجاتا ہے۔ ان انتخابات میں میں این ڈی ایل جماعت نے 80 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے ملک کی سب سے بڑی پارلیمان میں اکثریتی جماعت کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔

دوسری جانب عسکری ادارے پارلیمان میں 25 فیصد نشستوں اور چند اہم وزارتوں کے ساتھ نئی حکومت میں بھی اہم کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔

پارلیمان میں اکثریت حاصل ہونے کے باوجود میانمار کے آئین کے تحت آنگ سان سو چی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں کیونکہ آئین میں درج ہے کہ غیر ملکی بچوں کے والدین ملک کے صدر کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔ آنگ سو چی کے شوہر برطانوی شہریت کے حامل تھے اور ان کے بچے بھی برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔