بیلجیئم میں سوگ، ’دونوں خودکش حملہ آور بھائی تھے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں دہشت گرد حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے جبکہ 250 کے قریب افراد زخمی ہیں۔
اس دوران بیلجیئم کے ذرائع ابلاغ نے ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے دو خود کش حملہ آور بھائیوں کا نام خالد اور براہیم البکراوی بتایا ہے۔
نشریاتی ادارے آر ٹی بی ایف کا کہنا ہے کہ پولیس کو دونوں بھائیوں کے متعلق معلومات تھیں۔ ہوائی اڈے پر ان دونوں کے ساتھ تصاویر میں جو تیسرا شخص ہے اس کی اب بھی تلاش جاری ہے۔
بیلجیئم میں ان حملوں کے بعد تین روزہ سوگ منایا جارہا ہے اور بدھ کو گرینج وقت کے مطابق 11 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔
دوسری جانب پولیس مشتبہ شخص کو تلاش کرنے کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور برسلز میں فوجی دستے تعینات ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص برسلز کے ہوائی اڈے پر دو بم دھماکوں کے بعد فرار ہو گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سی سی ٹی کیمرے سی لی گئی ویڈیو میں دو مبینہ خودکش حملہ آوروں کے ساتھ ایک اور شخص بھی دکھائی دے رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ باقی دونوں افراد نے خودکش بم دھماکے کیے تھے اور یہ تیسرا شخص دھماکوں کے بعد فرار ہو گیا۔
تیسرا دھماکہ ایک گھنٹے کے بعد مائل بیک میٹروسٹشن کے قریب ایک میٹرو سٹیشن میں ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کر لی ہے۔
امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے یورپ سفر کرنے والی امریکی شہریوں کو ‘حملوں کے خطرے‘ سے آگاہ کیا ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہ ‘یورپ میں کھیلوں کے مقابلوں، سیاحتی مقامات، رستورانوں اور ٹرانسپورٹیشن کو‘ نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
برسلز میں حملوں کے بعد منگل کی شب بڑی تعداد میں افراد معروف سیاحتی مقام پلیس ڈی لا باؤرس میں جمع ہوئے اور انھوں نے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔
دنیا بھر میں بہت سارے ممالک نے بیلجیئم حملوں کا نشان بننے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مختلف <link type="page"><caption> عمارتوں کو بیلجیئم کے جھنڈے کے رنگوں سے روشن کیا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2016/03/160323_brussels_mourns_pictures_sh" platform="highweb"/></link>
اس سے قبل بلجیئم کے پراسکیوٹر نے بتایا تھا کہ پولیس ویڈیو میں نظر آنے والے تیسرے شخص کو تلاش کر رہی ہیں جس نے ہیٹ پہنی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے بتایا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ’برسلز میں ایک فلیٹ پر چھاپے کے دوران وہاں سے دھماکہ خیز مواد، کیمیکلز اور دولتِ اسلامیہ کے جھنڈے ملے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ایئر پورٹ اور میٹرو سٹیشن پر ہونے والے دونوں بم دھماکے خودکش تھے۔
بیلجیئم کے وزیرِاعظم شارل میشیل نے کہا کہ یہ حملے ’اندھے، شدید، اور بزدلانہ‘ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ’ہمارے ملک کی تاریخ کی ایک افسوس ناک لمحہ ہے، اور میں ہر ایک سے سکون اور یک جہتی کا مطالبہ کرتا ہوں۔
یہ دھماکے چار دن قبل پیرس حملوں کے ملزم صالح عبدالسلام کی برسلز ہی میں گرفتاری کے بعد ہوئے ہیں۔
دھماکوں کے بعد بیلجیئم کی حکومت نے خطرے کا درجہ انتہائی حد تک بڑھا دیا ہے۔








