بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں دھماکوں کے بعد کے مناظر
،تصویر کا کیپشنبیلجیئن ذرائع ابلاغ کے مطابق برسلز میں ہوائی اڈے اور میٹرو سسٹم میں ہونے والے دھماکوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشندو دھماکے ہوائی اڈے پر جبکہ تیسرا دھماکہ مرکزی برسلز میں یورپی یونین کے اداروں کے قریب ہی واقع میٹرو سٹیشن میں ہوا
،تصویر کا کیپشنتاحال یہ واضح نہیں ہو سکا تھا یہ خودکش دھماکے تھے یا سامان میں بم رکھے گئے تھے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبرسلز میں دھماکوں کے بعد یورپ کے دیگر شہروں میں بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنتاحال دھماکوں کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تاہم ہوائی اڈے کی عمارت کو خالی کروا لیا گیا ہے اور فضائی سروس معطل کر دی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنیہ دھماکے چار دن قبل پیرس حملوں کے ملزم صالح عبدالسلام کی برسلز ہی میں گرفتاری کے بعد ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشندھماکوں کے بعد بیلجیئم کی حکومت نے خطرے کا درجہ انتہائی حد تک بڑھا دیا ہے
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر نے کہا ہے کہ یہ بات ’حیران کن نہیں ہے‘ کہ برسلز میں یہ حملہ ہوا ہے۔ اصل حیران کن بات یہ ہے کہ یہ حملہ ’اس قدر کامیاب رہا ہے‘
،تصویر کا کیپشن زیونٹم ہوائی اڈہ برسلز کے شمال میں 11 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے
،تصویر کا کیپشنایک شخص نے، جو دھماکوں کے وقت ہوائی اڈے پر موجود تھے، بی بی سی کو بتایا کہ ’ہر کوئی چیخ رہا تھا اور بھاگ رہا تھا۔۔۔ میں ابھی تک کانپ رہا ہوں‘
،تصویر کا کیپشنبیلجیئم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے والے ادارے نے ٹویٹ کیا ہے کہ وہ لوگوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ فون کال کے بجائے سوشل میڈیا اور ٹیکسٹ میسج کا استعمال کریں تاکہ رابطوں میں تسلسل قائم رہے
،تصویر کا کیپشنیورپی یونین کے اداروں نے تمام اجلاس منسوخ کر دیے ہیں اور عمارتوں تک رسائی محدود کر دی گئی ہے