شمالی کوریا کی آبدوز غائب ہوگئی

شمالی کوریا کے پاس مختلف سائزوں کی ستر آبدوزیں ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا کے پاس مختلف سائزوں کی ستر آبدوزیں ہیں

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی کوریا کی ایک آبدوز ’لاپتہ‘ ہو گئی ہے اور خیال کیا جا رہے ہے کہ وہ ڈوب چکی ہے۔

امریکہ فوج سے قریبی تعلق والے جریدے کے مطابق شمالی کوریا کی آبدوز ایک ایسے وقت لاپتہ ہوئی ہے جب خطے میں جنوبی کوریا اور امریکہ کہ ہزاروں فوجی اب تک دونوں ملکوں کی سب سےبڑی فوجی مشقوں میں شریک ہیں۔

یو ایس نیول انسٹیٹوٹ جنرل کے مطابق امریکی نیوی شمالی کوریا کی اس آبدوز پر نظر رکھے ہوئے تھی جب وہ لاپتہ ہوئی۔

یو ایس نیول انسٹیٹوٹ جنرل کے مطابق شمالی کوریا کے پاس مختلف سائزوں کی ستر آبدوزیں ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این کے مطابق امریکی نیوی کے مشاہدے میں آیا ہے کہ شمالی کوریا اب اس آبدوزکو ڈھونڈ رہا ہے۔

جنوبی کوریا میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن ایونز کا کہنا ہے کہ مشرقی ساحل پر شمالی کوریا کے آبدوزوں کے دو مرکز ہیں اور یہ آبدوز اسی علاقے میں لاپتہ ہوئی۔

حال ہی شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربے کے باعث علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنےمیں آیا ہے۔

شمالی کوریا نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا کے سائنسدان اتنے چھوٹے جوہری بم تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو بیلسٹک میزائیل پر بھی نصب کیے جاسکتے ہیں۔

شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ مشترکہ فوجی مشقوں کے نتیجے میں انھیں ’بلا امتیاز‘ جوہری حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں میں ہر سال دسیوں ہزاروں فوجی حصہ لیتے ہیں اور ہر سال ان مشقوں کی وجہ سے تناؤ پیدا ہوتا ہے۔