’شیشانی ہلاک نہیں زخمی ہوئے ہیں‘

شیشانی کا شمار دولت اسلامیہ کے اہم کمانڈروں میں ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشیشانی کا شمار دولت اسلامیہ کے اہم کمانڈروں میں ہوتا ہے

شام سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر امریکی فضائی حملے میں ہلاک نہیں بلکہ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

شام کے حالات پر نظر رکھنے والے ایک مبصر گروپ کا کہنا ہے کہ شام کے شمال مشرقی حصے شدادی پر گذشتہ جمعے کو ہونے والی اس امریکی فضائی کارروائی میں عمر شیشانی ہلاک نہیں ہوئے بلکہ شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری نامی اس تنظیم کا کہنا ہے کہ انھیں ایسی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ شیشانی کو فضائی حملے کے بعد علاج کے لیے رقہ لے جایا گیا ہے۔

جارجیا سے تعلق رکھنے والے دولت اسلامیہ کے کمانڈر شیشانی کا اصلی نام ترکان بتیرشوالی ہے۔ وہ دولت اسلامیہ میں جنگ کے وزیر سمیت کئی اہم عسکری عہدوں پر رہ چکے ہیں۔

شیشانی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی خبروں کے بارے میں اب تک دولت اسلامیہ کی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

گذشتہ برس امریکہ کی طرف سے شیشانی کے سر کی قیمت پانچ کروڑ امریکی ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

امریکی وزارت دفاع سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس فضائی حملے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں جس کا مقصد ہسک صوبے میں شیشانی کو نشانہ بنانا تھا۔ نام ظاہر نہ کرتے ہوئے ایک امریکی دفاعی اہلکار نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ شیشانی اس حملے میں جانبر نہیں ہو سکے۔

بدھ کی شام کو سیریئن آبزرویٹری نے کہا تھا کہ اس کے ذرائع نے تصدیق کی کہ پچھلے جمعے کو امریکی فضائی حملے میں شیشانی کے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

شیشانی کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں دولت اسلامیہ کی پسپائی روکنے کے لیے بھیجا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنشیشانی کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں دولت اسلامیہ کی پسپائی روکنے کے لیے بھیجا گیا تھا

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں شیشانی کے کئی محافظ ہلاک ہو گئے لیکن کمانڈر زخمی ہوئے ہیں۔

سیرین آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمان نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شیشانی ہلاک نہیں ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھیں ہنگامی طور پر رقہ منتقل کر دیا گیا جہاں وہ ایک یورپ سے تعلق رکھنے والے ایک جہادی ڈاکٹر کے زیر علاج ہیں۔

رقہ شہر جہاں شیشانی کا ٹھکانہ ہے وہ دولت اسلامیہ کی خلافت جس کا اعلان 2014 میں کیا گیا تھا عملی طور پر دارالخلافہ ہے۔

امریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ شیشانی کو دولت اسلامیہ کی طرف سے شیدادی اس لیے بھیجا گیا تھا کہ اس علاقے میں دولت اسلامیہ کو امریکی حمایت سے مقامی مسلح گروہوں کے ہاتھوں ہونے والی پسپائی کو روکا جا سکے۔