پاکستان کے لیے آٹھ ایف 16 طیاروں کے حصول کی راہ ہموار

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, برجیش اپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن
امریکی سینیٹ نے پاکستان کو آٹھ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت روکنے سے متعلق قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔
100 ممبران پر مشتمل امریکی سینیٹ میں 71 سینیٹروں نے قرارداد کے خلاف اور 24 نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا جبکہ پانچ ممبران نے ووٹ نہیں ڈالا۔
جمعرات کو اس معاملے پر امریکی سینیٹ کے اندر ایک گھنٹے تک بحث چلی۔
قرارداد پر اعتراضات اٹھانے کے لیےکانگرس کے اراکین کے پاس ابھی صرف دو روز باقی ہیں مگر ایسے کسی اقدام کا امکان کم ہی نظر آرہا ہے۔
12 مارچ کے بعد اوباما انتظامیہ جب بھی چاہے ان طیاروں کو پاکستان کو فروخت کرنے کے عمل کو ممکن بنانے کی اجازت دے سکتی ہے۔
امریکی حکومت نے 12 فروری کو اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کو آٹھ اضافی ایف 16 طیاروں کے ساتھ ساتھ راڈار اور دیگر آلات فروخت کرے گا۔
گذشتہ ماہ امریکی دفترِ خارجہ نے پاکستان کے لیے تقریباً 86 کروڑ ڈالر کا بجٹ پاس کیا تھا۔ جس میں سے 27 کروڑ فوجی سازوسامان کے لیے طے کیے گئے تھے۔
امریکی وزراتِ دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ان آٹھ طیاروں اور اس سے جڑے دوسرے سازوسامان کی قیمت تقریباً 70 کروڑ ڈالر ہے۔ اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ اگر یہ فروخت ممکن ہوتی ہے تو اس میں سے 43 کروڑ ڈالر پاکستان کو خود خرچ کرنے ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کو ان<link type="page"><caption> طیاروں کی فروخت کی منظوری دینے کے لیے سینیٹ پر مکمل دباؤ ڈالا دیا گیا تھا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2016/02/160227_us_defends_f16_sale_pakistan_zh" platform="highweb"/></link>۔
وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی<link type="page"><caption> اس کے حق میں بات کی تھی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2016/02/160223_kerry_pakistan_f16_sale_zs" platform="highweb"/></link> تاہم بھارت نے اپنے ملک میں تعینات امریکی سفیر کو بلا کر اس ممکنہ اقدام کی مخالفت کی تھی۔
امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر عباس جلیل جیلانی نے بی بی سی سے گفتگو میں تسلسل کے ساتھ امریکی کانگرس کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف پاک امریکہ پارٹنرشپ کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ پاک امریکہ تعلقات کی مضبوطی اور قوت کی عکاسی کرتی ہے۔
سینیٹر رینڈ پال جنھوں نے یہ قرارداد پیش کی تھی انھوں نے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت کو روکنے کے لیے ایک پرجوش تقریر کی تاہم سینیٹ کے خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین باب کارکر نے دوسرے ممبران سے اپیل کی کہ اس فروخت کو عمل میں لانے دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فروخت روکنے سے پاکستان کو شرمندگی اٹھانی پڑے گی اس کے بعد وہ روس یا فرانس سے یہ طیارے خریدنے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی غور طلب ہے کہ سینیٹر باب کارکر نے خود بھی اس سے قبل اس فروخت پر سوال اٹھائے تھے۔
پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ایف 16 طیاروں کی تعداد 84 ہے۔







