’ایف 16 طیاروں پر بھارت کے ردعمل سے مایوسی ہوئی‘

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ یہ واضح کر چکا ہے کہ ان طیاروں کی فروخت صحیح طور پر نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ یہ واضح کر چکا ہے کہ ان طیاروں کی فروخت صحیح طور پر نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے ہیں

پاکستان کا کہنا ہے کہ اسے امریکہ سے ایف 16 طیاروں کی خریداری کے حوالے سے بھارتی حکومت کے ردعمل پر حیرانی اور مایوسی ہوئی ہے۔

اتوار کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں بھارتی حکومت کی ردعمل پر حیرانی اور مایوسی ہوئی ہے۔ ان کی فوج اور ہتھیاروں کے ذخائر کہیں زیادہ ہیں اور وہ دفاعی سامان کے سب سے بڑے درآمد کنندہ ہیں۔‘

ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ انسداد دہشت گردی کے لیے قریبی طور پر تعاون کر رہے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ یہ واضح کر چکا ہے کہ ان طیاروں کی فروخت صحیح طور پر نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز بھارت نے پاکستان کو ایف 16 جنگی طیارے فروخت کرنے کے امریکہ کے فیصلے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ٹویٹ کیا: ’ہم پاکستان کو ایف 16 طیارے فروخت کیے جانے کے سلسلے میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیے جانے سے مایوس ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’بھارت امریکہ کے اس خیال سے اتفاق نہیں رکھتا ہے کہ ان طیاروں کی فروخت سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔‘

بھارت نے پاکستان کو ایف 16 جنگی طیارے فروخت کرنے کے امریکہ کے فیصلے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارت نے پاکستان کو ایف 16 جنگی طیارے فروخت کرنے کے امریکہ کے فیصلے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا

خبر رساں ادارے اے ایف پی اور پی ٹی آئی کے مطابق بھارت نے دہلی میں تعینات امریکی سفیر کو بلا کر پاکستان کو ایف 16 جنگی طیارے فروخت کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف اپنی ناراضی ظاہر کی تھی۔

بھارت کی وزراتِ خارجہ نے نئی دہلی میں تعینات امریکی سفیر طلب کر کے ان سے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔

واضح رہے کہ واشنگٹن نے اسلام آباد کو آٹھ ایف 16 طیارے فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ طیارے جوہری ہتھیار لے جانے کے اہل ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے اس کی مدد کرنا چاہتا ہے۔

یہ جنگی طیارے لوکہیڈ مارٹن کور نے تیار کیے ہیں اور ان میں ریڈار سمیت دوسرے سازوسامان بھی شامل ہیں۔

پینٹاگان کی دفا‏عی سکیورٹی تعاون ایجنسی جو اسلحے کی فروخت کا نگراں ارادہ ہے نے امریکی قانون سازوں کو مجوزہ فروخت کے بارے میں اپنی رضامندی دے دی ہے۔

ادارے نے کہا کہ ایف 16 طیارے سے پاکستانی فضائیہ کو ہر طرح کے موسم، ماحول اور رات میں بھی پرواز کرنے کی سہولت میسر ہوگی جبکہ اس سے پاکستان کی اپنی دفاعی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

اس سے پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں تقویت ملے گي۔