تین ایف سولہ طیارے پاکستان کے حوالے

بلاک باؤن کے ایف سولہ طیارے سنیچر کو امریکہ سے پاکستان پہنچے ہیں
،تصویر کا کیپشنبلاک باؤن کے ایف سولہ طیارے سنیچر کو امریکہ سے پاکستان پہنچے ہیں

امریکہ کی جانب سے پاکستان کو فراہم کیے جانے والے اٹھارہ نئے ایف سولہ لڑاکا طیاروں میں سے تین طیارے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

سنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ مزید پندرہ ایف سولہ طیارے اس سال کے آخر اور اگلے سال تک پاکستان کے حوالے کردے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امریکہ اور پاکستان کی ائر فورس کے درمیان مضبوط اور بڑھتے ہوئے تعلقات کی واضح مثال ہے اور یہ ہمارے لیے مختصر اور طویل مدت کے لیے سود مند ہو گی۔

بیا ن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دیے جانے والے ایف سولہ طیارے انیس سو اسی کی دہائی میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت فروخت کیے جا رہے ہیں جس پر امریکہ نے سنہ انیس سو نوے کے اوائل میں عمل درآمد روک دیا تھا۔

امریکی سفارتخانے کے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکہ کے وزیر دفاع اور دوسرے دوسرے فوجی وسول رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔

اس سال مارچ میں واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے وزراء خارجہ کے درمیان پہلی بار سٹریٹیجک ڈائیلاگ ہوئے۔

اس بات چیت میں دونوں طرف سے اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے بھی شرکت کی تھی۔ ان میں امریکی کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن اور پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا بھی شریک ہوئے تھے۔

امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اس وقت کہا تھا کہ اس بات چیت میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ پاکستان درپیش سکیورٹی چلینجنز سے نمٹنے کے لیے کس طرح سے پاکستان کی مدد کی جاسکتی ہے اور اسی طرح کے مسائل کا سامنا امریکہ اور نیٹو کو بھی ہے۔

امریکی سفارت تخانے کے بیان کے مطابق نئے ایف سولہ طیاروں کی پاکستانی فضائیہ میں شمولیت سے اُس کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا کیونکہ ان جہازوں میں نصب آلات کی مدد سے دن اور رات کے علاوہ کسی بھی موسم میں ہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کے پاس پہلے ایسی صلاحیت نہیں تھی اور نئے طیاروں سے پاکستان کی فضائیہ اس قابل ہو جائے گی کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے وقت عام شہریوں کو بچایا جاسکتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ بیان کے مطابق اٹھارہ نئے ایف سولہ طیاروں کے لیے پاکستان ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر امریکہ کو ادا کر رہا ہے جبکہ اپنے موجوہ ایف سولہ طیاروں کو جدید بنانے کے لیے وہ ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر ادا کرے گا۔ ان ایف سولہ طیاروں کی ترسیل بیان کے مطابق دو ہزار بارہ میں شروع ہو گی۔

اس کے علاوہ امریکی ائر فورس پاکستانی پائلٹوں کو بھی تربیت فراہم کر رہی ہے جن میں رات کے وقت حملے کرنے کی تربیت بھی شامل ہے۔