طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات جلد متوقع

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے مفاہمتی عمل آئندہ چند روز میں شروع ہو جائے گا۔
اسلام آباد میں منگل کو برطانوی وزیرِ خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی شرائط مذاکرات کے نتیجے میں تو پوری ہو سکتی ہیں، ان سے پہلے نہیں۔
تاہم افغان طالبان نے حال ہی میں کہا ہے کہ جب تک ملک سے غیر ملکی افواج کا انخلا نہیں ہوگا تب تک حکومت سے امن مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے بات چیت کے مرکزی کردار طالبان اور افغان حکومت ہیں اور پاکستان، چین اور امریکہ کا اس بات چیت میں کردار سہولت کار کا ہے۔
انھوں نے کہا پاکستان سمیت تینوں سہولت کار ’مشترکہ ذمہ داری‘ کے نظریے کے تحت اپنے اپنے ذرائع سے رابطہ کر کے دیکھیں گے کہ انھیں (طالبان کو) مذاکرات کے لیے قائل کرنے کے سلسلے میں کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔
حال ہی میں واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک میں اپنی تقریر کے دوران سرتاج عزیز نے یہ بھی کہا تھا کہپاکستان افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کی اہلیت رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لیے پاکستان پر انحصار کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان طالبان تک پہنچایا جانے والا ’بنیادی پیغام یہی ہوگا کہ بہت سی پیشگی شرائط جو وہ پیش کر رہے ہیں، مذاکرات کے نتیجے میں تو پوری ہو سکتی ہیں لیکن بات چیت سے قبل ان کا تسلیم کیا جانا ممکن نہیں۔‘
مشیرِ خارجہ نے امید ظاہر کی آنے والے چند دنوں میں امن بات چیت کے سلسلے میں کسی نہ کسی سطح پر رابطے ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک بار یہ عمل شروع ہو جائے تو بات تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔‘
خیال رہے کہ امریکہ نے پیر کو ہی خبردار کیا ہے کہاگر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل جلد از جلد شروع نہ ہوا تو آنے والے موسم بہار اور پھر موسمِ گرما میں حالات کافی خراب ہو سکتے ہیں جس کے لیے امریکہ اور افغان سکیورٹی فورسز کو خود کو تیار کرنا ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئی کہا کہ ’اگر معاہدے کی کوشش ناكام رہتی ہے اور طالبان بات چیت کے لیے رضامند نہیں ہوتے تو ہمیں اور افغان فوج کو آنے والے مہینوں میں تشدد میں تیزی کے لیے تیار رہنا ہو گا۔‘
امریکہ افغان طالبان کے ساتھ مذاكرات کے حق میں ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بات چیت افغان حکومت کی قیادت میں ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ طالبان جنگجو سنہ 2001 سے افغان حکومت اور بین الاقوامی افواج کے خلاف ملک میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
افغان حکومت اور طالبان کے مابین ماضی میں مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن براہ راست مذاکرات کا سلسلہ گذشتہ سال سے رکا ہوا ہے۔
گذشتہ ماہ کابل میں ہونے والے چہار فریقی مذاکرات، جن میں امریکہ، چین، افغانستان اور پاکستان کے نمائندے شامل تھے، اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جلد سے جلد براہ راست بات چیت کا عمل شروع کیا جانا چاہیے۔







