غیرملکی افواج کے انخلا سے پہلے مذاکرات ممکن نہیں: طالبان

،تصویر کا ذریعہAFP
افغان طالبان نے کہا ہے کہ جب تک ملک سے غیر ملکی افواج کا انخلا نہیں ہوگا تب تک افغان حکومت سے امن مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
طالبان ، افغان حکومت، پاکستان، چین اور امریکہ کے مابین اگلے ماہ براہ راست مذاکرات متوقع تھے۔
اس سے قبل پاکستان، چین ، امریکہ اور افغانستان نے اس بات پر ضرور دیا تھا کہ پانچ فریقی مذاکرات رواں برس مارچ میں پاکستان میں منعقد ہوں گے۔
سنیچر کو طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں مارچ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تردید کرتے ہوئے ایسی اطلاعات کو افواہیں قرار دیا گیا ہے۔
’ہم اس طرح کی سب افواہوں کو مسترد کرتے ہیں اور یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسلامی ریاست کے سربراہ نے کسی کو مذاکرات میں شرکت کی اجازت نہیں دی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم اس بات کو ایک بار پھر دوہراتے ہیں کہ جب تک افغانستان پر قبضہ ختم نہیں ہوجاتا اور بےگناہ قیدیوں کو آزاد نہیں کیا جاتا اس طرح کے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘
خیال رہے کہ طالبان جنگجو سنہ 2001 سے افغان حکومت اور بین الاقوامی افواج کے خلاف ملک میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
افغان حکومت اور طالبان کے مابین ماضی میں مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن براہ راست مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ سال سے رکا ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کابل میں ہونے والے چہار فریقی مذاکرات جن میں امریکہ، چین، افغانستان اور پاکستان کے نمائندے شامل تھے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جلد سے جلد براہ راست بات چیت کا عمل شروع کیا جانا چاہیے۔
پاکستان نے طالبان کے دھڑوں اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی اسلام آباد میں میزبانی کرنے کی بھی پیش کش کی تھی۔







