’کچھ قوتیں نہیں چاہتیں امن عمل کا منطقی انجام ہو‘

افغان سفیر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جب بھی امن کی بات ہوتی ہے تو دونوں جانب تشدد کے واقعات شروع ہوجاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنافغان سفیر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جب بھی امن کی بات ہوتی ہے تو دونوں جانب تشدد کے واقعات شروع ہوجاتے ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عمر زاخیل وال کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں کچھ ایسی قوتیں موجود ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونوں پڑوسی ممالک میں امن عمل کسی منطقی انجام پر ختم ہو تاہم مستقل امن کی بحالی کے لیے صرف حکومتوں کو نہیں بلکہ تمام اداروں اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

جمعرات کو پشاور میں صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے افغان سفیر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جب بھی امن کی بات ہوتی ہے تو دونوں جانب تشدد کے واقعات شروع ہوجاتے ہیں جس سے امن کا عمل متاثر ہو جاتا ہے۔

’ہمیں بھی نہیں معلوم کہ یہ کیسے ہوجاتا ہے اور یہ کونسی قوتیں ہیں لیکن دونوں طرف کچھ ایسے لوگ ضرور موجود ہیں جن کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ امن کے عمل کو سبوتاژ کیا جائے ۔‘

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عمر زاخیل وال نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بنیادی طورپر ایسا کوئی تنازعہ نہیں صرف بداعتمادی کی فضا ہے جسے حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ پر ضرور دیا کہ وہ ایسی خبروں کے نشر یا شائع کرنے سے گریز کریں جس سے سرحد کے دونوں طرف نفرت کی فضا پھیلتی ہو۔

افغان سفیر نے افغان صوبہ کنڑ میں ایک ہی خاندان کی چار افراد کی ہلاکت اور باچاخان یونیورسٹی چارسدہ پر ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حال ہی میں ہونے والے ایسا چند واقعات ہیں جس کا بظاہر مقصد امن کے عمل کو ناکام بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں روزانہ ایسے کئی تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں جس سے یقینی طورپر امن کے عمل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

باچاخان یونیورسٹی چارسدہ پر ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے افغان سفیر نے کہا کہ ان کا بظاہر مقصد امن کے عمل کو ناکام بنانا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنباچاخان یونیورسٹی چارسدہ پر ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے افغان سفیر نے کہا کہ ان کا بظاہر مقصد امن کے عمل کو ناکام بنانا ہے

اس سوال پر کہ افغان حکومت افغان سرزمین پر پناہ لینے والے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولانا فضل اللہ اور اس کے دیگر جنگجوؤں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتی، افغان سفیر نے کہا کہ اس سوال کے جواب کےلیے بعض باتوں کی وضاحت تفصیلی طور پر دینا ضروری ہے لیکن اس وقت وہ اس کی وضاحت ضروری نہیں سمجھتے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی ایسا افغان علاقہ پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے جہاں افغان حکومت کی عمل داری قائم ہو۔

ڈاکٹر عمر زاخیل وال نے زور دے کر کہا کہ افغان حکومت اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ ان قوتوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہییں جو امن کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے لیکن جواب میں پاکستان سے بھی ایسے ہی توقع رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ بدھ کو پاکستان کے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا مختصر دورہ کیا تھا جہاں انھوں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق جنرل راحیل شریف نے افغان صدر سے پاکستان کے علاقے شوال سے فرار ہونے والے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔