جلال آباد میں بھارتی قونصلیٹ پر حملہ، دو شہری ہلاک

جلال آباد شہر اکثر طالبان کی کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجلال آباد شہر اکثر طالبان کی کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہتا ہے

افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں قائم بھارتی قونصلیٹ کے قریب کار بم حملے کی کوشش میں پانچ شدت پسند اور دو شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ شدت پسندوں میں ایک خود کش حملہ آور بھی شامل تھا۔

طبی عملے کے ارکان نے بتایا کہ اس حملے میں کم از کم نو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

افغانستان کا مشرقی شہر جلال آباد اکثر و بیشتر طالبان کی کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔

جلال آباد ہی میں اس سال جنوری میں ایک خود کش حملے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جنوری میں ہونے والا حملہ ایک مقامی سیاست دان کے گھر پر کیا گیا تھا جو صدر اشرف غنی کی طرف سے پاکستان کے ساتھ شروع کیے جانے والے مصالحتی عمل کی حمایت میں تھے۔

اس سے چند دن قبل ہی پاکستان قونصلیٹ کے قریب ایک جھڑپ میں سات افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

بدھ کے روز بھارتی قونصلیٹ کے قریب ہونے والے کار بم حملے کے بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ اس کار کا ڈرائیور دھماکے کے ساتھ ہی ہلاک ہو گیا جب کے اردگرد کھڑی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ پورا علاقہ تباہی کا منظر پش کرنے لگا اور ہر طرف گاڑیوں کے شیشے بکھرے ہوئے تھے۔

حملہ کے بعد پورا علاقہ تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحملہ کے بعد پورا علاقہ تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ شروع ہو گئی۔

طالبان نے حالیہ دنوں میں کئی بڑی بڑی کارروائیاں کی ہیں۔ چند دن قبل ہی فوج نے کہا تھا کہ طالبان صوبہ ہلمند میں سنگین ضلع کا کنٹرول حاصل کرنے کے قریب تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے کابل میں بھارتی سفارت خانے کے ایک اہلکار انیل کمار کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ قونصلیٹ کا تمام عملہ خیریت سے ہے۔

انیل کمار نے مزید کہا کہ قونصلیٹ کی عمارت میں شدت پسند داخل نہیں ہو سکے۔ اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ کی طرف سے قبول نہیں کی گئی ہے۔

ایک اور واقعہ میں نگرہار صوبے کے گورنر کے ترجمان عطا اللہ خوگانی نے کہا کہ بدھ کو ایک خود کش حملے میں 19 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

جنرل نکلسن ماضی میں بھی افغانستان میں خدمات انجام دے چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنرل نکلسن ماضی میں بھی افغانستان میں خدمات انجام دے چکے ہیں

دریں اثناء امریکی جنرل جان ڈبلیو نکلسن نے افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکی فوجیوں کی کمان سنبھال لی ہے۔

اٹھاون سالہ جنرل نکلسن نے جنرل جان ایف کیمپبل کی جگہ لی جن کے قیادت کے دوران سنہ 2014 میں امریکی فوج کے ایک بڑہ حصے کو افغانستان سے واپس بلا لیا گیا تھا۔

امریکی اور نیٹو فوجیوں کی کمان کی تبدیلی کی تقریب کابل میں امریکی اور نیٹو افواج کے اڈے ’ریزولوٹ سپورٹ‘ میں منعقد ہوئی اور جس سے خطاب کرتے ہوئے نکلسن نے امریکی فوج کا ساتھ دینے پر نیٹو کا شکریہ ادا کیا۔

کمانڈ کی تبدیلی کی اس تقریب میں جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکمانڈ کی تبدیلی کی اس تقریب میں جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے

نکلسن اس سے قبل تین مرتبہ افغانستان میں خدمات انجام دیے چکے ہیں۔ ان کو 13 ہزار بین الاقوامی فوجیوں جن میں 9800 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔

.