’افغان امن مذاکرات جلد ہونے کا امکان معدوم‘

بدھ کو جلال آباد میں بھارتی قونصلیٹ کے قریب زبردست کار بم دھماکہ ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبدھ کو جلال آباد میں بھارتی قونصلیٹ کے قریب زبردست کار بم دھماکہ ہوا تھا
    • مصنف, عنایت الحق یاسینی
    • عہدہ, بی بی سی پشتو سروس لندن

امریکہ، چین، پاکستان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان گزشتہ ماہ کابل میں چہار فریقی اجلاس کے بعد یہ اعلان کیا گیا تھا کہ مارچ کے شروع میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پاکستان میں براہ راست مذاکرات ہونگے۔ اس اعلان کے بعد امن کی بحالی کے لیے امیدیں پیدا ہو چلی تھیں۔

مارچ کا پہلا ہفتہ پورا ہونے کو ہے لیکن اسلام آباد اور کابل سے امن مذاکرات جلد شروع ہونے کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا اور نہ ہی سرگرمیاں نظر آ رہی ہیں کہ ائندہ چند دنوں میں یہ مذاکرات ممکن ہو سکیں گے۔

افغان امن کونسل یا شوری کے نئے سربراہ پیر سید احمد گیلانی کا یہ بیان کہ براہ راست مذاکرات کی تاریخ کے بارے میں انھیں کچھ علم نہیں ہے۔ بظاہر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مذاکرات کے جلد شروع ہونے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ يا یہ کے کہ افغان حکومت شوری کو اعتماد لیے بغیر پاکستان سے خفیہ طور پر اس بارے میں رابطے میں ہے۔

مذاکرات کے شروع کرنے سے سارے عمل میں موجود شکوک و شبہات اس حقیقت کو بھی اجاگر کر رہی ہیں کہ دونوں اطراف اپنی اپنی شرائط پر اب قائم ہیں۔ گذشتہ ہفتے کابل اور کنڑ میں بڑے خود کش حملوں کے بعد افغان صدر محمد اشرف غنی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ افغانوں کے قاتلوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

طالبان اپنے حملوں اور افغان حکومت اپنے ایسے بیانات سے شاید ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہو نگے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ موجودہ صورت حال کبھی امن کا عمل بحال کرنے میں مدد گار ثابت نہیں ہو سکتے۔ افغان حکومت شروع سے مطالبہ کر رہی ہے کہ ’طالبان کو تشدد کی کارروائیاں بند کرنا ہو نگی۔

یہ شرائط باقاعدہ طور پر جنوری کے مہینے میں قطر میں ’پگواش‘ نامی بین الاقوامی ادارے کی میزبانی میں طالبان اور مختلف افغان دھڑوں اور جماعتوں کے نمائندوں کے غیررسمی مذاکرات میں سامنے آئیں تھیں۔

قطر میں طالبان کے دفتر پر افغان امارات کا پرچم لہرانے پر مذاکرات معطل ہو گئے تھے
،تصویر کا کیپشنقطر میں طالبان کے دفتر پر افغان امارات کا پرچم لہرانے پر مذاکرات معطل ہو گئے تھے

ان شرائط میں غیر ملکی افواج کا انخلا، اقوام متحدہ کی طرف سے بنائی گئی بلیک لسٹ سے طالبان رہنماؤں کے ناموں کو نکالا جانا تاکہ وہ آزادی سے سفر کر سکیں، قطر میں طالبان آفس کی بحالی اور افغان میڈیا میں امن عمل کے بارے میں منفی پروپگنڈہ بند کرنا شامل تھا۔

یہ وہ شرائط ہیں جن پر طالبان نے کھل کر ان پر پگواش کانفرنس میں بات کی تھی۔

اس کے علاوہ بعض افغان ذرائع یہ دعوی بھی کر رہے ہیں کہ ماضی میں طالبان کو چند صوبوں کا مکمل اختیار حوالے کیے جانے کا تجويز يا مطالبہ بھی سامنے آياتھا۔

آخرالذکر شرط سمیت ان تمام شرائط میں سے ایک بھی ایسی شرط نظر نہیں آ رہی جو مخلوط افغان حکومت کے لیے پوری کرنا ممکن ہو یا اس کے لیے تیار ہو۔

جہاں تک بیرونی افواج کے انخلا کا تعلق ہے یہ تو صاف ظاہر ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کے افغان انخلا پر نظر ثانی کے بعد واشنگٹن کم از کم 2017۔ کے آخر تک افغانستان میں اپنے فوجیوں کو افغان میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ماضی میں اس بارے میں ’ٹائم ٹیبل‘ میں کی گئی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے یہ امر بھی خارج از امکان نہیں ہے کہ اس میں ایک بار پھر توسیع ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف خود افغان حکومت بھی گزشتہ سال قندوز پر طالبان کے چند دنوں کے قبضے اور پھر دسمبر میں ہلمند کے سنگین میں شدید لڑائی کے بعد اس حقیقت سے بہ خوبی واقف ہے کہ ’افغان حکومت کے لیے آنے والے برسوں میں بیرونی افواج کی مدد انتہائی ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

جہاں تک کہیں خاص صوبے یا صوبوں کو طالبان کے حوالے کرنے کى تجويز کا تعلق ہے تو کوئی بھی حکومت اس کو قبول نہیں کر سکتی کيونکہ اس سے عملاً ملک انتظامی لحاظ سے تقسیم ہو سکتا ہے۔

اگرچہ طالبان نے باضابط طور پر اس مطالبے يا تجويز پر کچھ نہیں کہا ہے لیکن اگر ایسا کوئی مطالبہ آنے والے مذاکرات میں سامنے آتا ہے تو نہ صرف یہ کہ یہ افغانوں کی اکثریت کے لیے قابل قبول نہ ہوگا بلکہ خود طالبان کےاس دعوے کی بھی نفی کر دےگا کہ وہ پورے افغانستان کو ایک ’جھنڈے تلے متحدہ کرنا چاہتے ہیں‘۔

اس بارے میں وثوق سے کچھ کہنا بہت مشکل ہے کہ کب افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات ہوں گے نتجیہ خیز ثابت ہوں گے ، اور امن بحال ہو سکا کہ نہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ تشدد اور لڑائی جاری رہنے کی صورت میں خطے کے عوام کی مشکلات میں کمی نہیں آ سکتی اور اس خطے کے ملکوں میں حقیقی ترقی ممکن نہیں ہے۔