’طالبان رضامند نہ ہوئے تو تشدد میں تیزی کے لیے تیار رہنا ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, برجیش اپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن
امریکہ نے کہا ہے کہ اگر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل جلد از جلد شروع نہ ہوا تو آنے والے موسم بہار اور پھر موسمِ گرما میں حالات کافی خراب ہو سکتے ہیں جس کے لیے امریکہ اور افغان سکیورٹی فورسز کو خود کو تیار کرنا ہو گا۔
امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے یہ بات پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئی کہی۔
تاہم افغان طالبان نے حال ہی میں کہا ہے کہ جب تک ملک سے غیر ملکی افواج کا انخلا نہیں ہوگا تب تک حکومت سے امن مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے بھی حال ہی میں دورۂ امریکہ کے دوران کہا تھا کہ اس بار اگر بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو موسم گرما میں تشدد میں خاصا اضافہ ہو سکتا ہے۔
جان کربی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ اس معاملے میں ایک ہی رائے رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’اگر معاہدے کی کوشش ناكام رہتی ہے اور طالبان بات چیت کے لیے رضامند نہیں ہوتے تو ہمیں اور افغان فوج کو آنے والے مہینوں میں تشدد میں تیزی کے لیے تیار رہنا ہو گا۔‘
ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اور افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی یہی چاہتے ہیں کہ مذاكرات بحال ہوں۔
جان کربی نے کہا کہ افغانستان میں طویل مدت امن و امان قائم کرنے کے لیے اس وقت اہم موقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر تفصیلی بات ہوئی ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان مل کر کام کریں۔
گذشتہ ہفتے امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لیے جاری مہم کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے پیش نظر امریکہ کو افغانستان میں موجود رہنے کی ضرورت ہے؟

،تصویر کا ذریعہAP
اس کے جواب میں جان کربی نے کہا کہ فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ ملک کا کمانڈر انچیف کرتا ہے اور صدر پہلے ہی وہاں موجود فوجیوں کی تعداد کو 9800 سے کچھ اور بڑھانے پر آمادہ ہیں۔
یہ غور طلب ہے کہ واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک میں اپنی تقریر کے دوران سرتاج عزیز نے یہ بھی کہا تھا کہپاکستان افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کی اہلیت رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لیے پاکستان پر انحصار کرتے ہیں۔
سرتاج عزیز نے یہ بھی کہا تھا کہ افغان طالبان کے رہنما پاکستان میں ہیں اور انھیں بات چیت کے لیے راضی کرنے میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس میں کافی ہنگامہ بھی مچا تھا کیونکہ یہ شاید پہلی بار تھا جب کسی پاکستانی اہلکار نے یہ کہا ہو کہ افغان طالبان پاکستان میں مقیم ہیں۔







