شام کی جنگ میں روس اور امریکہ حریف یا حلیف

،تصویر کا ذریعہEPA
شام میں جنگ بندی کا اثر دکھائی دے رہا ہے۔ اس لڑائی کی ابتداء میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں جو کچھ بھی کہا گیا ہو لیکن ملک کے مختلف حصوں میں تشدد میں کمی آئی ہے۔ان حالات میں امریکہ اور روس، جن کی دشمنی کا میدان کئی برس سے شام تھا‘ اب ایک موقف کے حامی نظرآ رہے ہیں۔
برطانوی وزارتِ دفاع میں مشرقِ وسطی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل سر سائمن میال کا کہنا ہے کہ یہ بات پریشان کن ہے کہ فیصلے روس کر رہا ہے۔
صدر اسد کی جانب سے روس کا جنگ بندی کا اعلان کرنا کچھ پریشان کن ہے وہ بھی دنیا کے اس حصے میں جہاں فیصلے امریکہ کرتا رہا ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں میونخ میں ہونے والے معاہدے کے بعد روس اور امریکہ انٹرنیشنل سپورٹ گروپ کے شریک چیئرمین بن گئے ہیں جس کا کام انسان دوست سپلائز یا اشیاء ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنانا اور اس معاہدے کو نافذ کرنا ہے جس کے تحت صدر اسد کی افواج اور حزب اختلاف کے گروپ ایک دوسرے پر فائرنگ نہ کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دونوں ہی طاقتوں نے اس معاہدے پر سخت محنت کی ہے اور اس کا کامیاب نفاذ دونوں ہی کے مفاد میں ہے۔ نام نہاد دولتِ اسلامیہ سے متعلق امریکی پالیسی سے نمٹنے والے محکمہ خارجہ کی سابق سینیئر افسر کیرن وان ہپل کا کہنا ہے کہ ابھی تک دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں کیونکہ روس سیاسی عمل کا احترام کرتا ہے اور بمباری کو روکنے اور اس عمل کو سنجیدگی سے لینے میں صدر اسد پر دباؤ ڈالتا ہے۔
واشنگٹن صدر اسد کی حکومت اور اس کے محالفین کے درمیان سیاسی مذاکرات میں پیش رفت کو اہم سمجھتا ہے۔
لیکن نجی طور پر افسران گھبرائے ہوئے ہیں کہ کہیں روس ایسے کسی گروپ کو دہشت گرد قرار دیکر مذاکرات میں شامل کرنے سے انکار نہ کر دے جس نے کبھی دولتِ اسلامیہ یا القاعدہ کے ساتھ تعاون کیا ہو۔
اب جب امریکہ اپنے اس شریک ملک کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے تب لندن اور پیرس میں چے مہ گوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے صدر اسد کے غیر معینہ مدت کے لیے اقتدار میں رہنے کے منصوبے سے اتفاق کیسے کر لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ نے کھلے عام تسلیم کر لیا ہے کہ فی الحال صدر اسد اقتدار میں رہ سکتے ہیں اور یہ بھی واضح ہے کہ انہوں نے میونخ معاہدے کے لیے اپنے اتحادیوں پر خاصا دباو ڈالا ہے۔
جب شام اور روس کی حمایت والی اتحادی افواج فروری کے اوائل میں شمالی حلب کی سمت پیش قدمی کر رہی تھیں اس وقت ترکی اور سعودی عرب اپنے حامی گروپوں کی حمایت میں جنگ میں کودنے کی تیاری کر رہے تھے۔
مثال کے طور پر گیارہ فروری کو سعودی ترجمان بریگیڈئر احمد السسیری نے کہا کہ ان کے ملک نے نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے شام میں زمینی فوج بھیجنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے جسے بدلا نہیں جا سکتا ہے۔ دریں اثناء ترک افواج شامی کرد گروپوں پر بمباری کر رہی تھیں اور روس نے ان پر ہمسائیہ ملک پر حملے کی تیاری کرنے کا الزام لگایا تھا۔اس بحران میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو روکنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا۔

،تصویر کا ذریعہAFPGetty
پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بریگیڈئر احمد السسیری نے کہا کہ اگر شام میں زمینی کارروائی پر کوئی اتفاق ہوتا ہے تو ہم فرنٹ لائن پر ہونگے۔
موجودہ صورت حال میں شام میں قیامِ امن کی راہ میں جو رکاوٹ ہے وہ یہ سوال ہے کہ آئی ایس کے خلاف کارروائیاں جنگ بندی کو کس حد تک متاثر کریں گی۔
واشنگٹن میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صدر اسد کو اقتدار سے ہٹانے کے بجائے شدت پسندوں کے عملی گڑھ رقہ کی جانب پیش قدمی کرنا امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔
لیکن اگر یہ سیاسی عمل رک جاتا ہے یا پھر صدر اسد کی افواج جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو کیا ہوگا۔ایسے میں اقوامِ متحدہ میں روس کے ایلچی کا کہنا ہے کہ شامی صدر پر دباؤ ڈالا جائے گا۔
لیکن گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں سینیٹرز سے بات چیت کے دوران جان کیری نے پلان بی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ شاید تب تک شام کو ٹوٹنے سے بچانے میں بہت دیر ہو جائے گی۔جو شام کی تقسیم کی خدشے کی جانب اشارہ ہے۔
شامی حزبِ اختلاف میں کئی لوگو ں کا خیال ہے کہ اسد حکومت تقسیم سے خوش ہوگی۔







