شام میں فاتح کون؟

شام میں حکومت اور باغی گروہوں نے روس اور امریکہ کی طرف سے شام میں خانہ جنگی کو بند کرنے کے لیے طے کی گئی شرائط کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔
شام کے صدر بشاالاسد نے جنگ بندی کو عملی طور پرنافذ کرنے کے امکانات کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔
روس کے فضائی حملوں اور ایران کی زمینی مدد کے بل بوتے پر صدر اسد نے کئی اہم محاذوں پر بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔
شام میں جہادی گروپوں اور نام نہاد دولت اسلامیہ نامی تنظیم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خوف نے صدر اسد کے مخالف ملکوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ان کو اقتدار سے علیحدہ کیا جانا قابل عمل پالیسی ہو سکتی ہے۔
بی بی سی ورلڈ سروس کے انکوائری پروگرام میں تین تجزیہ نگاروں نے شامی حکومت کی طرف سے تازہ ترین معاہدے کی شرائط کو تسلیم کرنے سے پہلے اس نکتے پر بات کی تھی کہ کیا صدر اسد نے حقیقی طور پر جنگ جیت لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
جینیفر کافاریلا: ایران اور روس کی مدد بہت اہم تھی
میدان جنگ میں صدر اسد کا پلڑا یقینی طور پر بھاری ہے۔ مسلح مخالفین سرکاری فوجوں کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں کر رہے ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ حلب کا محاصرہ روکنے میں کامیاب ہو سکیں اور اس کے بعد خوراک کی بندش اور محصورین کو بھوکا مارنے کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
حلب پر قبضے سے باغیوں کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی اور ان کی اکثریت اسد حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد ترک کر دیں گے۔
اب تک اسد حکومت کی جنگی حکمت عملی یہ رہی کہ وہ دفاعی اور فوجی لحاظ سے اہم خطوں پر قبضہ کریں اور باغیوں کے زیرِ قبضہ ان علاقوں پر بھی قبضہ کر لیں جو دفاعی اور فوجی لحاظ سے اہم جگہوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ وہ مکمل طور پر دیہی علاقوں پر قبضہ کرنا نہیں چاہ رہے۔ وہ اس بات کو یقین بنانا چاہتے ہیں کہ جن علاقوں پر ان کا قبضہ ہے وہ مستحکم ہو اور دمشق، حمس اور حلب جیسے شہروں پر ان کی فوجی گرفت مضبوط ہو جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سب سے بڑی کمی فضائی طاقت کی ہے۔ روس فضائی حملوں اور بیرل بموں کے خلاف باغی بے بس ہیں تاوقتکہ انھیں زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایسے میزائل فراہم کیے جائیں جو کندھوں پر اٹھائے جا سکتے ہیں اور جن سے لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
میرے خیال میں ایران کی حمایت کے بغیر اسد بہت پہلے جنگ ہار چکے ہوتے اور ایرانی فوجیوں کی موجودگی اسد حکومت کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور محاذ جنگ پر بھی اس کا پلڑا ایرانی فوجیوں کی موجودگی سے ہی بھاری ہے۔
ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ شامی باغیوں کی طرف سے ہم غیر ملکی جنگجوؤں کو شام میں آ کر ان کے شانہ بشانہ شامی حکومت کے خلاف لڑنے کی آوازیں سن رہے ہیں۔ شامی باغیوں کی حالت کے بارے میں یہ بہت خطرناک اشارہ ہے کہ وہ اس حد تک مجبور ہو گئے ہیں۔
القاعدہ کے خود کش بمبار ناقابل یقین حد تک اہم فوجی ہتھیار ہیں۔ القاعدہ ان کو فوجی اڈوں میں گھس کر یا اہم دفاعی اور فوجی تنصیبات کے قریب ترین جا کر نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں جو شامی باغیوں کی پہنچ سے دور ہیں یا ان کے پاس اس کی صلاحیت نہیں ہے۔
یہ حکمت عملی ناقابل یقین حد تک موثر ہے اور اس بنا پر شامی باغی القاعدہ پر انحصار کرتے رہیں گے جب تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
اسد یقینی طور پر بڑی مستحکم پوزیش میں ہیں اور مستقبل میں انھیں شامی باغیوں کے انتہا پسندوں کی طرف جھکاؤ سے فائدہ ہو گا۔
اگر اسد ان حالات کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ایک ایسے موڑ پر لے جاتے ہیں جہاں ہمیں اپنے ملکوں کی حفاظت اور اسد
حکومت کو ہٹانے کی خواہش میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے تو اس صورت حال میں اسد حکومت کی جیت ہو جائے گی۔
رمی خوری: اسد کے لیے بہترین راستہ باہمی رضامندی سے ریٹائرمنٹ ہو سکتا ہے۔

صدر اسد اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے بہت ہی چنیدہ لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ کمزوری کا اشارہ ہے نہ کہ استحکام کا۔
ایک ایسا وقت تھا جب شام کے ترکی سے بہت اچھے تعلقات تھے لیکن بعد ازاں ترک مکمل طور پر شام کے مخالف ہو گئے ہیں۔ اور ایک ایسا دور بھی تھا جب شام کے سعودی حکومت سے بھی بہت دوستانہ تعلقات تھے لیکن اب وہ بھی نہیں رہے۔
یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ اب سعودی، ترک اور دوسرے ملک یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے ایف سولہ لڑاکا طیارے اور بری فوج کے خصوصی کمانڈو دستے شمالی شام کو باغیوں کے دفاع کے لیے بھیجیں گے۔
اس بات کا خطرہ ہے کہ شمالی شام میں ایک محدود عالمی جنگ شروع ہو جائے۔ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے جہاں مختلف عناصر، مقامی، سرکاری، خطے کے ملک اور عالمی طاقتیں عملی طور پر ایک دوسرے پرگولیاں اور میزائل برسا رہے ہیں اور یہ انتہائی غیر معمولی صورت حال ہے۔
ہر ایک اسے اپنی بقا کی جنگ سمجھ رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ ہار گئے تو وہ تاریخ کے اوراق سے مٹ جائیں گے۔ اس ہی وجہ سے وہ انتہائی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
روس، ایران اور حزب اللہ یہ سب کچھ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسد حکومت کے ختم ہو جانے سے خطے میں ان کے مفادات کے لیے ایک انتہائی تباہ کن دفاعی شکست ہو گی۔
ایران اور حزب اللہ کو خاص طور پر شام اپنے درمیان رابطے کے لیے درکار ہے۔ روس اس صورت حال کو خطے میں اپنی پوزیش اور بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
میرے خیال میں زیادہ طویل عرصے تک اسد اقتدار میں نہیں رہ سکیں گے۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ جنگ بندی کراونے میں کامیاب ہو جائیں اور اس کے بعد عبوری دور میں ایک دو سال شامل رہیں اور بلاآخر اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں۔
میرے خیال میں وہ بہت خوش قسمت ہو گے اگر انھیں یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی طرح سیاسی سمجھوتے کے تحت صدارت سے علیحدہ ہونے کا موقع مل جائے اور انھیں عالمی عدالت انصاف کا سامنا نہ کرنے پڑے۔ میرے خیال میں ان کے لیے یہ بہتر صورت حال ہو گی جس کی انھیں امید ہونی چاہیے۔
حسن حسن: اسد کا حکم اب بھی چلتا ہے۔
جب روس شام میں پہنچا تو اس سے سرکار کو تحفظ ملا اور یہ احساس پیدا ہوا کہ ملک مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سے اسد کو اعتماد ملا ۔ روسیوں نے اس کے بقا کی حمایت کی۔
جب نامہ نہاد دولت اسلامیہ نامی تنظیم نے سلیمانیہ کی طرف پیش قدمی شروع کی، لوگوں میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ ان کا مستقبل سرکار ہی سے وابستہ ہے اور انھیں سرکار کا تحفظ حاصل ہے۔ شہر کو محفوظ بنا لیا گیا اور لوگوں کے حزب اختلاف یا باغیوں سے رابطے نہیں رہے۔ سلیمانیہ سرکار کا ایک مضبوط گڑھ بن گیا۔
یہ سوال کہ کیا صدر اسد کے قریبی حلقے میں سے کوئی ان سے منحرف ہو سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو مغربی دارالحکومتوں میں زیر بحث رہا ہے۔ لیکن میرے خیال میں اس کی عملی وجوہات موجود ہیں کہ یہ کیوں ممکن نہیں ہے۔
سرکار کے ایک حمائتی نے بڑے اچھے انداز میں مجھے یہ سمجھایا کہ ایسا کیوں ممکن نہیں ہے۔ اگر صدر اسد فون اٹھا کر کسی کو کال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں قیدی کو رہا کر دیا جائے تو دوسری طرف ایسے افراد موجود ہیں جو ان کے حکم کی بجاآوری کرتے ہیں۔ ان کے احکامات نچلی سطح تک پہنچتے ہیں اور یہ نظام ابھی کام کر رہا ہے۔ کسی اور کے لیے شایدیہ ممکن نہ ہو۔
بشار الاسد کا حکم چلتا ہے اور وہ کام کرا سکتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ وہ لوگ جو ان کے وفاداروں میں شامل ہیں یا جو تہران اور ماسکو میں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ کوئی بہت شاطر آدمی ہیں بالکہ اس نفسیاتی طور وہ پرانے نظام کی نمائندگی کرتےہیں۔
وہ جیت گئے ہیں اس لحاظ سے کہ ان کے اقتدار میں رہنے کا ہدف بڑی حد تک حاصل ہو گیا ہے تاوقتکہ حالات بدل جائیں۔ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔







