’لاپتہ یا قتل کی گئی مقامی خواتین کی تعداد ہزاروں میں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
کینیڈا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں لاپتہ ہونے والی یا قتل کی جانے والی ’مقامی‘ خواتین کی تعداد ماضی کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
خواتین کے امور کی وزیر پیٹی ہیجڈو نے منگل کو بتایا کہ ایسی خواتین کی تعداد تقریباً چار ہزار تک ہو سکتی ہے۔
ماضی میں یہ تعداد 1200 کے لگ بھگ بتائی جاتی رہی ہے۔
ملک کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس معاملے پر کام کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
اس سلسلے میں ان کی کابینہ کے ارکان نے حال ہی میں ملک بھر میں ان خواتین سے رابطے کیے ہیں جن کے آباؤاجداد کا تعلق کینیڈا سے ہی تھا، تاکہ اس معاملے کی حکومتی سطح پر تحقیقات کا آغاز کیا جا سکے۔
پیٹریکا ہیجڈو کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس صحیح تعداد تو موجود نہیں لیکن انھوں نے ’نیٹو وومن ایسوسی ایشن آف کینیڈا‘ کی ایک تحقیق کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس تحقیق کے مطابق یہ تعداد تقریباً چار ہزار ہے۔
اس سے قبل یہ تعداد 1200 کے قریب بتائی جاتی تھی جو سنہ 2014 میں رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی سنہ 1980 سے 2012 کے درمیان لاپتہ ہونے والی خواتین کے حوالے سے رپورٹ میں بتائی گئی تھی۔
وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ’حکومتی سطح پر تحقیقات ان کی نو منتخب لبرل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سلسلے میں وزیر قانون جوڈی ولسن ریبولڈ، سٹیٹس آف وومن کی وزیر پیٹریکا ہیجڈو اور مس بیننیٹ نے تقریباً دو ہزار افراد کے ساتھ بات کی تاکہ حکومتی تحقیقات کا آغاز کیا جا سکے۔
وزیرِ اعظم ٹروڈو نے مخصوص نسل کے افراد کے لیے پرواگرامنگ اور قوانین کا اثر نو جائزہ لینے کے لیے فنڈ میں اضافہ کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔







