شام میں جنگ بندی پر عالمی طاقتوں میں عدم اتفاق

امریکہ کی طرف سے شام میں جاری خانہ جنگی کو فوری طور پر روکنے کی کوششوں کو روس کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔
یہ بات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب شام کے بحران سے متعلق امن مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے عالمی طاقتیں میونخ میں مل رہی ہیں۔
مغربی اہلکاروں کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق روس نے یکم مارچ کو جنگ بندی کی تجویز دی تھی لیکن امریکہ کا خیال ہے کہ ماسکو شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے تین ہفتوں کا وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب خطے میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔
عالمی امدادی ایجنسی انٹرنیشنل کمیٹی آف دا ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کا کہنا ہے کہ شام کے صوبے حلب میں جاری لڑائی میں حالیہ دنوں میں آنے والی شدت کے باعث 50 ہزار لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ امداد پہنچانے کےراستے بھی بند کروا دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں پر ’شدید دباؤ‘ ہے۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق روسی فضائی حملوں کے حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں نے حلب کے شمال میں واقع ایک سابق شامی فوجی اڈے سے جنگجوؤں کو نکال دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’دا سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے شدت پسندوں پر کم از کم 30 فضائی حملے کیے ہیں اور کرد ملیشیا نے میناغ کے اڈے پر تقریباً مکمل قبضہ کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روسی وزارت دفاع کے حوالے سے ملنے والی خبروں کے مطابق روسی جنگی طیاروں نے شام میں گذشتہ ہفتے 510 حملے کیے تھے۔
روس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فضائی حملوں میں’دہشت گردوں‘ کو ہدف بناتا ہے لیکن مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ مرکزی دھارے کے حزب اختلاف کے گروپوں کے خلاف بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں جو شامی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے جمعرات کو براہ راست نشر ہونے والے ٹی وی خطاب میں تنبیہ کی کہ اگر فضائی حملے جاری رہے تو پناہ گزینوں کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
شام سے جڑی ہوئی ترکی کی سرحد کو کھولنے کے مطالبوں کے حوالے سے انھوں نے مزید کہا کہ ترکی ایک حد تک صبر کرے گا، لیکن پھر وہ کارروائی کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
میونخ میں روس، امریکہ، سعودی عرب، ایران اور دیگر طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران توقع ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری فوری طور پر جنگ بندی اور حلب میں امدادی کارکنوں کی رسائی کے لیے زور دیں گے۔
لیکن شامی حکام نے اب تک کوئی ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ حلب میں جنگ کی شدت کم کرنے کا ان کا کوئی ارادہ ہے۔۔







