زمبابوے میں خشک سالی کے بعد ایمرجنسی نافذ

،تصویر کا ذریعہReuters
زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے ملک کے خشک سالی سے متاثرہ دیہی علاقوں میں ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق ایک چوتھائی سے زائد آبادی، یعنی تقریباً 24 لاکھ افراد کو غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
چند روز قبل زمبابوے کی حکومت پر یورپی یونین کی جانب سے زور ڈالا گیا تھا کہ وہ ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان کرے تاکہ عطیہ دہندگان جلد از جلد غذائی امداد کے لیے رقم جمع کر سکیں۔
حکومت کی جانب سے عوام پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ پریشان نہ ہوں حکومت پڑوسی ملک زیمبیا سے مکئی درآمد کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں ال نینیو موسمی مظہر کے باعث خشک سالی میں شدید اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد بھوک کا شکار ہیں۔
جنوبی افریقہ، نمیبیا، اور بوٹسوانا بھی شدید خشک سالی کا شکار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
زمبابوے میں گذشتہ سال کے مقابلے پر اس سال معمول سے انتہائی کم بارشیں ہوئی ہیں جس کے باعث مویشیوں کی چراگاہیں سوکھ گئی ہیں اور ہزاروں مویشی موت کا شکار ہوگئے ہیں۔
بین الاقوامی خیراتی ادارے آکسفیم کے زمبابوے میں ڈائریکٹر یان واسن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سال بارشیں نہ ہونے کے باعث صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے۔ ملک کے کچھ علاقوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ اپنے مویشیوں کو گھروں کی چھتوں پر بچھی گھاس کھلانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کی نامہ نگار نومسا مسیکو نے جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے خبر دی ہے کہ زراعت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جبکہ تمباکو اور کپاس کے کسان بھی اپنے آپ کو ممکنہ تباہی کے لیے تیار کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ







