افغانستان میں خشک سالی، امداد کی اپیل

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعالمی ادارہ خوراک نے سرد موسم میں ان افغانوں تک خوراک پہنچانے کے لیے عالمی اپیل بھی جاری کر دی ہے

افغانستان کو اس موسم سرما میں بد ترین خشک سالی کا سامنا ہو سکتا ہے جس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے افغان حکومت نے چودہ کروڑ ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے۔

افغان وزیر ِزراعت نے خشک سالی کی اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا اثر ملک کے شمال اور مشرق میں چودہ صوبوں پر ہو گا جو ملک کا تقریباً نصف بنتا ہے۔

دس سال میں پہلی بار پیش آنے والی اس بد ترین خشک سالی کے باعث کاشتکاروں نے اپنے مویشی فروخت کر دیے ہیں اور افغان حکومت کے مطابق اب ان کا مکمل دارومدار غیر ملکی امداد پر ہے۔

عالمی ادارۂ خوراک نے سرد موسم میں ان افغانوں تک خوراک پہنچانے کے لیے عالمی اپیل بھی جاری کر دی ہے۔

افغان وزیر زراعت محمد آصف رحیمی کے مطابق ان کا ملک ابھی تک اس طرح کا نظام تشکیل نہیں دے سکا ہے جس میں اس نوعیت کی آفتوں کو برداشت کرنے کی اہلیت ہو۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ اس سال خشک موسم کے باعث کاشتکار اپنی ضرورت کے مطابق زمینوں سے فصل حاصل نہیں کر پائے اور دوسری جانب عالمی منڈی میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ملک کے شمالی حصے میں عوام کو ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے۔

عالمی ادارۂ خوراک کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں افغانستان میں مدد پر انحصار کرنے والے افراد کی تعداد میں چھبیس لاکھ کا اضافہ ہو جائے گا جس سے یہ تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

خشک سالی کے شکار علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں کنویں خشک ہو گئے ہیں جس کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

علاقے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں طالبان جنگجو بہت سرگرم ہیں جس کے باعث ان علاقوں میں امدادی سامان کی ترسیل میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔