’ایتھوپیا میں خشک سالی کا خطرہ نہیں‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنحکومت لوگوں کے مسائل کم کرنے کے کیے اقدامات کر رہی ہے

ایتھوپیا کے وزیر نے ایسی اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں بارشیں نہ ہونے کے سبب لاکھوں افراد کو خوراک کی فوری ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سنہ انیس سو چوراسی، پچاسی کے بعد سے ایتھوپیا میں لوگوں کو خشک سالی کا سامنا ہے۔

ایتھوپیا کے وزیر میکیٹو کاسا نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت قحط سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔ وہ امریکہ کی جانب سے دی جانے والی خشک سالی کی وارننگ جس میں کہا گیا تھا کہ آنے والے مہینوں میں ایتھوپیا کے اکثر علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ ہے پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔

میکیٹو نے بی بی سی کے پروگرام فوکس آن افریقہ میں کہا کہ امریکی رپورٹ زمینی حقائق کے منافی اور بے بنیاد ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایتھوپیا میں پانچ اعشاریہ سات ملین افراد کو خوراک فراہم کی جا رہی ہے لیکن جہاں تک ملک میں بھوک اور خشک سالی کا تعلق ہے تو ایسی کوئی صورت حال نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کے مسائل کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

فیوزنیٹ وارننگ سسٹم کے مطابق ایتھوپیا کے مغرب، شمال مغربی اور جنوب مشرقی علاقوں میں جنوری سے مارچ سنہ دو ہزار دس کے دوران خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہو گا۔ جس سے سومالی، گمبیلا اور افار کے حصے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ یہ رپورٹ ایتھوپیا میں سنہ دو ہزار نو کے دوران بارش کی کمی کے بعد سامنے آئی ہے۔

امدادی ایجنسی آسفیم کے مطابق خشک سالی نے مشرقی افریقہ کے کچھ حصوں کو مسلسل چھ برس سے متاثر کیا ہے جبکہ کینیا اور ایتھوپیا میں معمول سے بہت کم بارشیں ہوئی ہیں۔