افریقہ خشک سالی کا شکار: تصاویر

قرنِ افریقہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد خشک سالی کے باعث قحط کا شکار۔

مسلسل قحط سالی کی وجہ سے قرنِ افریقہ کا علاقہ غذائی بحران کا شکار ہے۔ اس علاقے میں کینیا، ایتھوپیا، جبوتی اور صومالیہ کے ممالک شامل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہاں دو سال سے بارش نہیں ہوئی اور اس سال ستمبر تک بھی بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔
،تصویر کا کیپشنمسلسل قحط سالی کی وجہ سے قرنِ افریقہ کا علاقہ غذائی بحران کا شکار ہے۔ اس علاقے میں کینیا، ایتھوپیا، جبوتی اور صومالیہ کے ممالک شامل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہاں دو سال سے بارش نہیں ہوئی اور اس سال ستمبر تک بھی بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔
خوراک کے بحران کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ کے قریب ہے۔ اقوام متحدہ نے ابھی تک اس علاقے کو قحط زدہ نہیں قرار دیا لیکن خطے کے بہت سے علاقوں میں حالات کو ہنگامی یا بحرانی قرار دے دیا گیا ہے۔ یہاں پانچ سال سے کم عمر کے پینتیس سے چالیس فیصد بچے غذا کي کمي کا شکار ہیں۔
،تصویر کا کیپشنخوراک کے بحران کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ کے قریب ہے۔ اقوام متحدہ نے ابھی تک اس علاقے کو قحط زدہ نہیں قرار دیا لیکن خطے کے بہت سے علاقوں میں حالات کو ہنگامی یا بحرانی قرار دے دیا گیا ہے۔ یہاں پانچ سال سے کم عمر کے پینتیس سے چالیس فیصد بچے غذا کي کمي کا شکار ہیں۔
علاقے میں جاری تصادم کی وجہ سے لوگوں کو امداد فراہم کرنے کا کام مزید مشکل ہو گیا ہے۔ گزشتہ جولائی تک عسکریت پسندوں نے امداد دینے والے اداروں کو صرف جنوبی صومالیہ اور مشرقی ایتھوپیا میں متاثرین کی امداد کے لیے محدود رسائی دی تھی۔
،تصویر کا کیپشنعلاقے میں جاری تصادم کی وجہ سے لوگوں کو امداد فراہم کرنے کا کام مزید مشکل ہو گیا ہے۔ گزشتہ جولائی تک عسکریت پسندوں نے امداد دینے والے اداروں کو صرف جنوبی صومالیہ اور مشرقی ایتھوپیا میں متاثرین کی امداد کے لیے محدود رسائی دی تھی۔
دو ہزار گیارہ سے تقریباً پندرہ ہزار صومالی باشندے ہر ماہ پناہ اور مناسب غذا کے حصول کے لیے کینیا اور ایتھوپیا جا رہے ہیں۔کینیا میں داداب میں مہاجرین کی پناہ گاہ میں تقریباً تین لاکھ ستر ہزار افراد پناہ لے چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشندو ہزار گیارہ سے تقریباً پندرہ ہزار صومالی باشندے ہر ماہ پناہ اور مناسب غذا کے حصول کے لیے کینیا اور ایتھوپیا جا رہے ہیں۔کینیا میں داداب میں مہاجرین کی پناہ گاہ میں تقریباً تین لاکھ ستر ہزار افراد پناہ لے چکے ہیں۔
وہ کسان جو بنیادی خوراک کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہے اپنے مویشی چھوڑ کر جا رہے ہیں جبکہ مہنگائی کی وجہ سے بیشتر تو پہلے ہی مویشی بیچ چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوہ کسان جو بنیادی خوراک کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہے اپنے مویشی چھوڑ کر جا رہے ہیں جبکہ مہنگائی کی وجہ سے بیشتر تو پہلے ہی مویشی بیچ چکے ہیں۔
متاثرین کو نقل مکانی سے بچایا جا سکتا تھا لیکن علاقے میں جاری تصادم کی وجہ سے یہاں ترقیاتی کاموں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے جس سے شاید قحط کے اثرات کم کیے جا سکتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنمتاثرین کو نقل مکانی سے بچایا جا سکتا تھا لیکن علاقے میں جاری تصادم کی وجہ سے یہاں ترقیاتی کاموں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے جس سے شاید قحط کے اثرات کم کیے جا سکتے تھے۔
ترقیاتی کاموں کے لیے ملنے والی امداد میں جنگلوں کا تحفظ، زمین کی پیداوار بڑھانے اور پانی کے ذخائر کو بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ نئی سڑکوں کی تعمیر سے کسانوں کو منافع بڑھانے کا موقع ملے گا۔
،تصویر کا کیپشنترقیاتی کاموں کے لیے ملنے والی امداد میں جنگلوں کا تحفظ، زمین کی پیداوار بڑھانے اور پانی کے ذخائر کو بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ نئی سڑکوں کی تعمیر سے کسانوں کو منافع بڑھانے کا موقع ملے گا۔
موسم کے حالات، جاری تصادم اور سرمایہ کاری میں کمی کے باعث کینیا اور ایتھوپیا میں سڑسٹھ لاکھ افراد امداد پر گزارہ کر رہے ہیں۔ امداد فراہم کرنے والے اداروں کے اندازے کے مطابق چھبیس لاکھ افراد کے لیے مزید انتظامات کرنے ہوں گے۔
،تصویر کا کیپشنموسم کے حالات، جاری تصادم اور سرمایہ کاری میں کمی کے باعث کینیا اور ایتھوپیا میں سڑسٹھ لاکھ افراد امداد پر گزارہ کر رہے ہیں۔ امداد فراہم کرنے والے اداروں کے اندازے کے مطابق چھبیس لاکھ افراد کے لیے مزید انتظامات کرنے ہوں گے۔