دولت اسلامیہ ترکی کو تیل بیچ کر مزے کر رہی ہے: اسرائیل

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کے وزیر دفاع نے ترکی پر خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کا تیل خریدنے کا الزام لگایا ہے اور دوسرے لفظوں میں اس کی سرگرمی میں تعاون کا الزام لگایا ہے۔
ایتھنز میں اسرائیلی وزیر دفاع موشے یالون نے کہا کہ دولت اسلامیہ بہت لمبے عرصے سے ترکی کو فروخت کیے گئے تیل کی رقم سے مزے کر رہی ہے۔
ترکی نے دولت اسلامیہ کے تیل کی سمگلنگ کی بات کو مسترد کر دیا ہے اور حال ہی میں امریکہ نے روس کے اس الزام کی بھی تردید کی ہے جس میں کہا گيا ہے کہ ترکی حکومت کے اہلکار جنگجوؤں کے ساتھ ہیں۔
دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے جن میں تیل کے کنویں بھی شامل ہیں۔
یونان کے ہم منصب کے ساتھ بات چیت کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے یالون نے کہا: ’یہ طے کرنا ترکی، اس کی حکومت، اس کے رہنماؤں پر منحصر ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کے تعاون کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔
’ابھی تک ایسا نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ داعش بہت عرصے سے ترکی کو فروخت تیل کے پیسے سے مزے کر رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اسے ختم کیاجائے گا۔
یالون نے یہ الزام بھی لگایا کہ ترکی نے جہادیوں کو ’یورپ سے شام اور عراق جانے اور پھر وہاں سے واپس جانے کی اجازت دی ہے۔



