عراق میں ترک فوج پر دولتِ اسلامیہ کا حملہ پسپا

ترکی نے گذشتہ برس دسمبر میں کم از کم 150 فوجی شمالی عراق کے لیے روانہ کیے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP getty Images

،تصویر کا کیپشنترکی نے گذشتہ برس دسمبر میں کم از کم 150 فوجی شمالی عراق کے لیے روانہ کیے تھے

ترکی کا کہنا ہے کہ عراق کے شمالی علاقے بعشیقہ میں ترک فوج پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا حملہ پسپا کر دیا گیا ہے۔

ترک فوجی دولت اسلامیہ کے زیرِ قبضہ شہر موصل کے نزدیک بعشیقہ کیمپ میں عراقی کرد فورسز کو تربیت دینے کے لیے تعینات ہیں۔

عراق میں کردستان کے نیم خود مختار علاقے سے ترک حکومت کے قریبی روابط ہیں۔

ترک حکام کے مطابق جمعے کو ہونے والی اس کارروائی کے دوران 17 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ترک فوج کو کوئی جانی نقصان نھیں اٹھانا پڑا۔

ترکی نے گذشتہ برس دسمبر میں کم از کم 150 فوجی شمالی عراق کے لیے روانہ کیے تھے اور اس کا کہنا تھا کہ انھیں فوجی تربیت دینے والے اہلکاروں کی حفاظت کے لیے بھیجا گیا ہے۔

تاہم عراق ان فوجیوں کی اپنے ملک میں تعیناتی کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا رہا ہے۔

بعدازاں ترک وزارت خارجہ نے بھی فوج کی تعیناتی کے معاملے پر عراق کے ساتھ ’اطلاعات کی غلط ترسیل‘ کا معاملہ تسلیم کیا تھا اور عراق سے کچھ فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا۔

یہ اقدامات امریکی صدر براک اوباما کی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ بات چیت کے بعد کیے گئے تھے۔

صدر اوباما نے صدر اردوغان سے کہا تھا کہ وہ بغداد کے ساتھ ’کشیدگی کو کم کریں۔‘

خیال رہے کہ ترکی دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں قائم اتحاد کا حصہ ہے۔