ترکی عراق سے اپنے مزید فوجی واپس بلا رہا ہے

عراق میں ترکی کے خلاف مظاہرہ کیا گیا ہے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا مظہر ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعراق میں ترکی کے خلاف مظاہرہ کیا گیا ہے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا مظہر ہے

ترکی نے کہا ہے کہ وہ شمالی عراق سے اپنے مزید فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے اس نے جزوی طور پر شمالی عراق سے اپنے فوجیوں کو واپس بلایا تھا۔

وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے فوج کی تعیناتی پر عراق کے ساتھ ’اطلاعات کی غلط ترسیل‘ کو تسلیم کیا ہے۔

یہ اقدامات امریکی صدر براک اوباما کی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ بات چیت کے بعد کیے گئے ہیں۔ صدر اوباما نے صدر اردوغان سے کہا تھا کہ وہ بغداد کے ساتھ ’کشیدگی کو کم کریں۔‘

اس ماہ کے اوائل میں ترکی نے تقریبا ڈیڑھ سو فوجی شمالی عراق کے لیے روانہ کیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ وہ فوجی تربیت دینے والوں کی حفاظت کے لیے روانہ کیے گئے ہیں۔

ترکی نے موصل کے نزدیک بعشیقہ کیمپ میں عراقی کرد فورسز کو تربیت دینے کے لیے اپنے فوجی تعینات کیے تھے۔ خیال رہے کہ موصل گذشتہ سال سے دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہے۔

کردوں نے ترکی کے حلاف احتجاج کیا ہے جبکہ کردستان کے ساتھ ترکی کے قریبی تعلقات ہیں

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنکردوں نے ترکی کے حلاف احتجاج کیا ہے جبکہ کردستان کے ساتھ ترکی کے قریبی تعلقات ہیں

دوسری جانب عراق کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے حالیہ نقل و حمل ان کی اجازت کے بغیر سامنے آيا ہے جو کہ قومی سالمیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا: ’ترکی اپنے محافظ دستوں کی تعیناتی پر عراقی حکومت کے ساتھ ہونے ہونے والی ترسیل کی غلطی کو تسلیم کرتا ہے۔

’عراق کے خدشات کے پیش نظر اور دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کی ضروریات کے تحت ترکی نینوہ صوبے سے اپنے فوجی ہٹا رہا ہے جو کہ غلط ترسیل کی جڑ ہے۔‘

اس میں یہ نہیں کہا گيا ہے کہ کتنے فوجیوں کو وہاں سے ہٹایا جا رہا ہے اور انھیں وہاں سے کہاں بھیجا جا رہا ہے۔

پیر کو ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے فوجی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ دس سے 12 فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ بعشیقہ کیمپ سے روانہ ہوا ہے اور شمال کی جانب جا رہا ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ انھوں نے عراقی حکام سے بات چیت کے بعد بعشیقہ کیمپ میں موجود اپنے فوجیوں کو نئے سرے سے منظم کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی حکومت کے عراق میں کردستان کے نیم خود مختار علاقے سے قریبی روابط ہیں۔