اقوام متحدہ کی اثاثے ضبط کرنے کے قانون پر تنقید

،تصویر کا ذریعہGetty
اقوام متحدہ نے ڈنمارک میں تارکین وطن کی قیمتی اشیا کو بحق سرکار ضبط کرنے کے انتہائی متنازع قانون پر تنقید کی ہے۔
منگل کو ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں ملک میں پناہ حاصل کرنے والے تارکین وطن کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ان کی قیمتی اشیا کو بحق سرکار ضبط کرنے کے ایک انتہائی متنازع قانون کی منظوری دے دی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون کے ترجمان سٹیفن ڈوجرک نے کہا ہے کہ پناہ گزین جنگ سے بھاگ کر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر یورپ پہنچ رہے ہیں اور ان سے رحم دلی سے پیش آنا چاہیے۔
ترجمان کے مطابق پناہ گزینوں کے بین الاقوامی قوانین کے تحت حاصل حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔
ڈنمارک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ قانون ملک کے اس قانون سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت سرکار سے مالی مدد اور دیگر مراعات وصول کرنے والے شہریوں کو ایک طے شدہ سطح سے زیادہ اپنے اثاثوں کو فروخت کرنا ہوتا ہے۔
ارکان پارلیمان نے اس تجویر کی بھی حمایت کی جس کے تحت تارکین وطن کو اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے طویل عرصہ انتظار کرنا پڑے گا۔
نئے قانون کے تحت ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن کو ایک ہزار پونڈ تک کی مالیت کی قیمتی اشیاء اپنے پاس رکھنے کا حق حاصل ہوگا۔
ایسی قیمتی اشیا جن سے ان کی جذباتی وابستگی بھی ہو گئی مثلاً شادی کی انگھوٹی وغیر ان کو استثنیٰ حاصل ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نئی تجاویر کے تحت تارکین وطن کو اپنے عزیزوں کو بلانے کے لیے ایک سال کے بجائے تین سال انتظار کرنا پڑے گا۔
عارضی رہائشی کے پرمٹوں کی مدت کو کم کیا جا رہا ہے اور مستقل رہائشی پرمٹ یا اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے شرائط کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں جب یہ متنازع تجویز سامنے آئی تھی تو اس کو ملک کے اندر اور بیرونی دنیا میں بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
ان قوانین کا مقصد تارکین وطن کو ڈنمارک میں پناہ لینے سے روکنا یا ان کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ڈنمارک کو توقع ہے کہ سنہ 2016 میں 20 ہزار تارکین وطن ڈنمارک میں پناہ کے لیے آ سکتے ہیں۔ ڈنمارک کی حکومت نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ سال 15 ہزار تارکین وطن نے ملک میں پناہ حاصل کی۔







