کوپن ہیگن:’پولیس حملہ آور کے متشدد ماضی سے آگاہ تھی‘

،تصویر کا ذریعہAP
ڈنمارک کی پولیس کا کہنا ہے کہ کوپن ہیگن کے دو مقامات پر فائرنگ کرنے والا شخص 22 سالہ ڈینش شہری تھا جس کے پرتشدد ماضی کے بارے میں پولیس کو پہلے سے پتا تھا۔
اس مسلح شخص جسے پولیس نے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی رہائش شہر کے نوریبرو علاقے میں تھی جس کی نگرانی پولیس کر رہی تھی۔
اس مسلح شخص کے نام کو ابھی تک عام نہیں کیا گیا ہے۔
ایک فلم ہدایتکار اور یہودی عبادت گاہ کے محافظ ان دو علیحدہ علیحدہ حملوں میں ہلاک ہوئے جبکہ پانچ پولیس اہلکا ابھی تک زخمی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور خود ہی کارروائی کر رہا تھا جس کے بارے میں پولیس کو اس کے جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ تعلقات کا علم تھا۔
یہ شخص اس سے قبل اسلحہ رکھنے اور پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے مجرم رہ چکے ہیں۔
پولیس کمشنر نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ ’جب مشتبہ شخص کو گولی ماری گئی اور پولیس کی کارروائی میں وہ ہلاک ہوا تو وہ پستول سے لیس تھا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس کو ایک اور ہتھیار بھی ملا جس کو شبہ ہے کہ پہلی فائرنگ میں استعمال کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈینش انٹیلیجنس سروس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں حملہ کرنے والا یہ شخص پیرس میں گذشتہ مہینے ہونے والے حملے کی نقل تو نہیں کر رہا تھا جہاں 17 افراد ایک مزاحیہ جریدے چالری ایبڈو اور ایک کوشر مارکیٹ پر حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے قبل انٹیلیجنس سروس کے سربراہ نے رپورٹرز کو بتایا کہ پولیس اس شحص کے بارے میں جانتی تھی اور اس بات کی تعین کر رہی تھی کہ کہیں اس شخص نے شام یا عراق سفر کیا تھا یا نہیں۔
وزیراعظم ہیلا تھورننگ شمڈٹ نے اس فائرنگ کے واقعے کو ’ڈنمارک کے خلاف دہشت گردی کا حملہ قرار دیا‘ اور کہا کہ اُن کی حکومت آزادئ اظہار کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔<span >
وزیراعظم نے اس کے بعد یہودی عبادت گاہ کا بھی دورہ کیا اور کہا کہ ڈنمارک یہودیوں کی حفاظت کرنے کے لیے جو بھی ہوا کرے گا۔
ڈنمارک اپنے آپ کو فخریہ طور پر اُن چند یورپی ممالک میں سے ایک قرار دیتا ہے جس نے 1940 میں یہودیوں کی نسل کشی کے دوران بڑی تعداد میں اپنی یہودی آبادی کی حفاظت کی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ڈینش وزیراعظم نے یہودی عبادت گاہ کے دورے کے دوران کہا کہ ’جب آپ بے رحمی سے معصوم لوگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کرتے ہیں جو ایک مباحثے میں حصہ لے رہے ہیں جب آپ یہودیوں پر حملہ کرتے ہیں تو یہ لوگ ہماری جہوریت پر حملہ کرتے ہیں۔ ہم اپنی یہودی آبادی کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔‘
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے ڈینش یہودیوں پر زور دیا کہ وہ ہجرت کر کے اسرائیل منتقل ہو جائیں جبکہ ڈنماک کے چیف ربی یائر میلکویر نے کہا کہ وہ نتن یاہو کے بیان سے مایوس ہوئے۔
انہوں نے اے پی کو بتایا کہ ’اگر دہشت گردی سے بچنے کا حل یہ ہے کہ آپ کسی اور جگہ منتقل ہو جائیں تو پھر ہم سب ایک ویران جزیرے پر چلے جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اتوار کو ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن کی پولیس نے شہر میں چند گھنٹوں میں دو مقامات پر فائرنگ کر کے دو افراد کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کرنے والے مسلح حملہ آور کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
شہر میں پہلا حملہ سنیچر کی شام ایک کیفے میں ہوا جبکہ دوسرا حملہ رات کو کرسٹل گیڈ سٹریٹ پر واقع یہودی عبادت گاہ کے قریب کیا گیا تھا اور دونوں جگہ ایک ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نےضلع نوریبرو میں مسلح شخص کو اس وقت مارا جب اس نے ان پر فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق ویڈیو فوٹیج سے پتہ چلا ہے کہ دونوں واقعات میں ایک ہی شخص ملوث تھا، کارروائی میں کسی دوسرے شخص نے حصہ نہیں لیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں چیف پولیس انسپکٹر توربین مولغارد جینسن نے بتایا کہ ’ ہمارے خیال میں دونوں واقعات کے پیچے ایک ہی شخص ہے، اور ہمارا یہ بھی اندازہ ہے کہ جس مجرم کو پولیس ٹاسک فورس کی فائرنگ میں مارا گیا ہے قتل کے ان دونوں واقعات کے پیچھے وہی تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ شہر میں پولیس کی بھاری نفری موجود رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد اتوار کی صبح سے پولیس نے ڈسٹرکٹ نوریبرو کی نگرانی شروع کی جہاں کثیر تعداد میں تارکینِ وطن آباد ہیں اور یہ مقام حملے کی جگہ سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔
پولیس حکام نے مزید بتایا ہے کہ جیسے ہی مبینہ حملہ آور نوریبرو پہنچا اس نے وہاں پولیس افسران کو دیکھتے ہی اپنی بندوق نکال کر ان پر فائرنگ شروع کر دی۔
پہلے حملے کےبعد پولیس نے حملے آور کی فوٹو بھی جاری کی تاہم وہ کالے رنگ کی گاڑی میں سوار ہوکر فرار ہونے میں کامیاب ہوا اور بعد میں اس کی گاڑی کیفے سے کچھ ہی فاصلے پر ملی۔
اس کے چند ہی گھنٹے بعد حملہ آور نے کیفے سے پانچ کلومیٹر دور کرسٹل گیٹ سٹریٹ میں یہودی عبادت گاہ کے قریب موجود شخص کو گولی مار کرہلاک کر دیا۔
حملہ آور نے وہاں موجود دو پولیس اہلکاروں کو بھی زخمی کیا اور وہاں سے بھی فرار ہونے میں کامیاب رہا۔







