فرانس: پیرس حملوں سے تعلق کے شبہے میں 12 گرفتار

فرانس کے علاوہ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفرانس کے علاوہ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے

فرانس میں پولیس نے اطلاعات کے مطابق پیرس میں گذشتہ ہفتے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد دارالحکومت اور اس کے گردونواح سے 12 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پیرس میں طنزیہ رسالے چارلی ایبڈو اور ایک کوشر مارکیٹ پر حملوں میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ گرفتار شدہ افراد سے حملہ آوروں کے سہولت کار ہونے کے تناظر میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ان افراد نے حملہ آوروں کو ’ہتھیار اور اسلحے جیسی لاجسٹک مدد فراہم کی۔‘

اطلاعات کے مطابق فرانسیسی پولیس نے پیرس کے نواح میں پانچ قصبات میں چھاپے مارے۔

آئی ٹیلی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کی شب مارے پولیس کارروائی کا ہدف موغوژ،گغینی، شاتنے مالابغی، اپینے سیوخ سین اور فلوئغی میغوژی کے قصبات تھے۔

حملوں کے بعد فرانس میں دس ہزار اہلکار حفاظتی ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحملوں کے بعد فرانس میں دس ہزار اہلکار حفاظتی ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے ہیں

فرانس کے علاوہ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

جرمنی میں بھی پولیس نے جمعے کی صبح دو مقامات پر چھاپے مار کر دو مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کی شب بیلجیئم میں پولیس نے انسدادِ دہشت گردی کی ایک کارروائی میں دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ شام سے جہاد کے بعد واپس آنے والے یہ لوگ فوری حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

اس کے علاوہ سپین نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ پیرس کے حملہ آوروں میں سے ایک امیدی کولیبالی نے حملوں سے چند دن قبل میڈرڈ کا دورہ کیا تھا۔