کوپن ہیگن: پولیس کا حملہ آور کی ہلاکت کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہReuters
ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن کی پولیس نے شہر میں چند گھنٹوں میں دو مقامات پر فائرنگ کر کے دو افراد کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کرنے والے مسلح حملہ آور کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
شہر میں پہلا حملہ سنیچر کی شام ایک کیفے میں ہوا جبکہ دوسرا حملہ رات کو کرسٹل گیڈ سٹریٹ پر واقع یہودی عبادت گاہ کے قریب کیا گیا تھا اور دونوں جگہ ایک ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نےضلع نوریبرو میں مسلح شخص کو اس وقت مارا جب اس نے ان پر فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق ویڈیو فوٹیج سے پتہ چلا ہے کہ دونوں واقعات میں ایک ہی شخص ملوث تھا، کارروائی میں کسی دوسرے شخص نے حصہ نہیں لیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں چیف پولیس انسپکٹر توربین مولغارد جینسن نے بتایا کہ ’ ہمارے خیال میں دونوں واقعات کے پیچے ایک ہی شخص ہے، اور ہمارا یہ بھی اندازہ ہے کہ جس مجرم کو پولیس ٹاسک فورس کی فائرنگ میں مارا گیا ہے قتل کے ان دونوں واقعات کے پیچھے وہی تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ شہر میں پولیس کی بھاری نفری موجود رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد اتوار کی صبح سے پولیس نے ڈسٹرکٹ نوریبرو کی نگرانی شروع کی جہاں کثیر تعداد میں تارکینِ وطن آباد ہیں اور یہ مقام حملے کی جگہ سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔
پولیس حکام نے مزید بتایا ہے کہ جیسے ہی مبینہ حملہ آور نوریبرو پہنچا اس نے وہاں پولیس افسران کو دیکھتے ہی اپنی بندوق نکال کر ان پر فائرنگ شروع کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے شہریوں کو بتایا ہے کہ سٹی سینٹر محفوظ نہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ علاقے میں کرفیو نہیں لگایا گیا۔
بی بی سی کوموصول ہونے والی ویڈیو میں کیفے میں منعقدہ تقریب کے وہ مناظر دیکھے جا سکتے ہیں جب گولیوں کی آواز سننے کے بعد اندر جاری بحث ومباحثے میں خلل پیدا ہوا۔
موقع پر موجود ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ لوگ دروازے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے،کمرے سے باہر نکلنے کے لیے کوشاں تھے، کرسیوں اور میزوں کے پیچھے یا درمیان میں چھپ رہے تھے اور کچھ لوگ گلیوں میں بھاگ رہے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پہلے حملے کےبعد پولیس نے حملے آور کی فوٹو بھی جاری کی تاہم وہ کالے رنگ کی گاڑی میں سوار ہوکر فرار ہونے میں کامیاب ہوا اور بعد میں اس کی گاڑی کیفے سے کچھ ہی فاصلے پر ملی۔
اس کے چند ہی گھنٹے بعد حملہ آور نے کیفے سے پانچ کلومیٹر دور کرسٹل گیٹ سٹریٹ میں یہودی عبادت گاہ کے قریب موجود شخص کو گولی مار کرہلاک کر دیا۔
حملہ آور نے وہاں موجود دو پولیس اہلکاروں کو بھی زخمی کیا اور وہاں سے بھی فرار ہونے میں کامیاب رہا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے اے ایف پی نے یہودی کمیونٹی کے حوالے سے بتایا ہے کہ عبادت گاہ کے باہر ہلاک ہونے والا شخص یہودی تھا اور وہ عبادت گاہ کی سکیورٹی پر مامور تھا۔
سنیچر کی شام مسلح شخص نے اس کیفے کو نشانہ بنایا تھا جہاں آزادئ اظہار پر ایک سیمینار ہو رہا تھا۔
اس سیمینار میں فرانسیسی سفیر کے علاوہ پیغمبرِ اسلام کے خا کے بنانے والے سویڈن کے متنازع کارٹونسٹ ’لارس ولکس‘ بھی موجود تھے۔ واقعے کے بعد اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حملے کا مقصد انھیں نشانہ بنانا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس حملے کے ایک عینی شاہد راسموس تھاؤ ردرش نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ اُس وقت کچھ وقت گزارنے جا رہے تھے کہ انہیں ایک شخص زمین پر لیٹا نظر آیا مگر انہوں نے گولیوں کی آوازیں نہیں سنیں۔
یہودی عبادت گاہ کے قریب ہونے والے حملے کے بارے میں ڈینش پولیس نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں ایک شخص کے سر میں گولی لگی اور وہ جانبر نہ ہو سکا جبکہ حملے میں دو پولیس اہلکاروں کو بازو اور ٹانگ میں چوٹیں آئی ہیں۔
ابتدا میں یہ واضح نہیں تھا کہ دونوں حملے ایک شخص نے کیا یا یہ الگ الگ نوعیت کی کارروائیاں ہیں۔ حملے کی زد میں آنے والے دونوں مقامات پانچ کولمیٹر کے فاصلے پر تھے۔
ڈینش وزیراعظم ہیلا تھورننگ شمڈٹ نے کیفے پر فائرنگ کے بعد اس حملے کو ’سیاسی وجوہات کی دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔







