پیرس: حملہ آور کے ساتھ روابط پر چار کو الزامات کا سامنا

،تصویر کا ذریعہGetty
پیرس حملوں میں شامل ایک گن مین کی مبینہ طور پر مدد کرنے کے الزام میں چار افراد آج پیرس میں ایک جج کی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ اسلامی شدت پسندوں کے دو مختلف حملوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ان لوگوں کو عمریں 22 سے 28 سال کے درمیان ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد انھیں باقاعدہ تفتیش کے لیے بھیج دیا جائے۔
ان پر شبہ ہے کہ ان کے تعلقات ایمدی کولیبلی کے ساتھ تھے جس نے کوشر مارکیٹ میں چار افراد کو ہلاک کیا تھا جبکہ ایک خاتون پولیس افسر کے قتل کا الزام بھی ان کے سر پر ہے۔
دریں اثنا مالی کے اس باشندے کو فرانسیسی شہریت دی جا رہی ہے جس نے پیرس کی کوشر مارکیٹ میں گاہکوں کی جان بچائی تھی۔ جب کولیبلی مارکیٹ میں داخل ہوئے اور لوگوں کو یرغمال بنانا شروع ہو گئے تو 24 سالہ مسلمان لاسانا باتھیلی نے گاہکوں کو زیرِ زمین سٹور میں چھپا دیا تھا۔
ان کی شہریت کی درخواست کو فاسٹ ٹریک کیا گیا اور منگل کو یعنی آج ان کو ایک تقریب میں شہریت دی جا رہی ہے۔
کولیبلی نے نو جنوری کو چار یہودی یرغمالوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد پولیس نے انھیں بھی گولی مار دی تھی۔
انھوں نے مرنے سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ وہ شریف اور سعید کواشی کے ساتھ مل کر یہ کام کر رہے ہیں۔ دونوں بھائیوں نے سات جنوری پیرس کو چارلی ایبڈو میگزین میں گھس کر ایڈیٹر سمیت 12 افراد ہلاک کر دیے تھے۔
جمعے کو پولیس نے پیرس اور اس کے گردونواح سے 12 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ گرفتار شدہ افراد سے حملہ آوروں کے سہولت کار ہونے کے تناظر میں تفتیش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ان افراد نے حملہ آوروں کو ’ہتھیار اور اسلحے جیسی لاجسٹک مدد فراہم کی۔‘
گرفتار کی گئی تین خواتین کو ہفتے کو چھوڑ دیا گیا اور پیر اور منگل کی درمیانی شب پانچ مزید افراد کو رہا کر دیا گیا۔
باقی چار افراد منگل کو انسدادِ دہشت گردی کے میجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔







