’جہادی پناہ گزین کیمپ میں چھپ کر رہ سکتے ہیں‘

مسٹر ہرلی لندن سٹی پولیس میں انسداد دہشت گردی کے سابق سرابراہ تھے اور اب سرے میں پولیس اور کرائم کمیشنر کے عہدے پر فائز ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمسٹر ہرلی لندن سٹی پولیس میں انسداد دہشت گردی کے سابق سرابراہ تھے اور اب سرے میں پولیس اور کرائم کمیشنر کے عہدے پر فائز ہیں

برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے ایک سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ’چوری سے داخل ہونے والے جہادیوں‘ کا ٹھکانہ کےلے میں قائم نام نہاد کیمپ ہو سکتا ہے ’جہاں وہ عام نگاہوں سے چھپ کر رہ سکتے ہیں‘۔

اس علاقے کا جائزہ لینے کے دوران کیون ہرلی نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیمپ ’مکمل طور پر پولیس کی نظروں سے اوجھل ہے۔‘

لیکن کیمپ میں سرگرم خیراتی ادارے کی سربراہ نے ان کے دعوؤں کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا۔

ہرلی لندن سٹی پولیس میں انسداد دہشت گردی کے سابق سربراہ تھے اور اب سرے میں پولیس اور کرائم کمیشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کی ٹیم ’انسائیڈ آؤٹ‘ کے ساتھ کئی گھنٹے کیمپ میں گزارے۔

انھوں نے تشویش ظاہر کی کہ کیمپ لوگوں کے ’چھپنے کی ممکنہ جگہ‘ ہے اور منظم جرائم پیشہ افراد یہاں کے لوگوں کا ’استحصال کر سکتے ہیں۔‘

کےلے کے کیمپ کو انسانوں کے جنگل سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکےلے کے کیمپ کو انسانوں کے جنگل سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے

انھوں نے کہا: ’اگر میں واپس آنے والا جہادی ہوتا تو میں خود کو اسی گروہ میں سمگل کرتا۔ یہاں آپ با آسانی گم ہو سکتے ہیں۔

کیمپ میں تارکین وطن سے بات چیت کے دوران ہرلی کو بتایا گیا کہ اس ’جنگل‘ میں خطرناک لوگ رہتے ہیں۔

ان میں سے ایک نے بتایا کہ کیمپ میں ایسے افراد ہیں جو ’داعش کے لیے کام کررہے ہیں‘ حالانکہ وہ اس جہادی گروپ کا حصہ نہیں ہیں۔

افغانستان سے آنے والے ایک دوسرے شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ رات وہاں ایک قتل ہوا ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشت گردی کے ایک سابق معائنہ کار نے بی بی سی کی ٹیم کو بتایا کہ انھیں بھی ’اس جنگل کے بارے میں اسی طرح کے خدشات ہیں‘۔

کلیئر موزلی نے کہا کہ انھوں نے آج تک جتنی مضحکہ خیز باتیں سنی ہیں ان میں سے یہ سب سے زیادہ مضحکہ خیز تھی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکلیئر موزلی نے کہا کہ انھوں نے آج تک جتنی مضحکہ خیز باتیں سنی ہیں ان میں سے یہ سب سے زیادہ مضحکہ خیز تھی

ڈیوڈ ویڈیسٹ نے کہا کہ ’سب سے بڑا خطرہ وہ برطانوی شہری ہیں جو پولیس سے چھپ رہے ہیں اور ملک میں پناہ گزین کے روپ میں پھر سے داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

بہر حال وہاں پر کام کرنے والے برطانیہ کے خیراتی ادارے ’کیئر فار کے لے‘ کی بانی نے ان دعووں کو ’سب سے مضحکہ خیز‘ کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔

کلیئر موزلی نے کہا: ’آپ دنیا کے سب سے احمق دہشت گرد ہوں گے جو پناہ گزین کے طور پر برطانیہ میں داخل ہونا چاہیں گے کیونکہ جب آپ پناہ گزین کے طور پر آئیں گے تو آپ کے ماضی کی مفصل جانچ ہوگی۔‘