ہانگ کانگ: گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہReuters
ہانگ کانگ میں ہزاروں افراد نے پانچ کتب فروشوں کی گمشدگی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ گمشدہ افراد جس دکان میں کام کرتے تھے وہ چین کی حکومت کی مخالفت پر مبنی مواد بیچنے کے لیے مشہور ہے۔
شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان افراد کو چین میں قید کر کے رکھا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> ہانگ کانگ: ’مظاہروں میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2014/10/141020_hong_kong_protest_external_forces_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ہانگ کانگ: جمہوریت پسند مظاہرین کا احتجاج دوبارہ شروع</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/02/150201_hong_kong_protest_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ ’ایک ملک دو نظام ‘ کے اصول کے تحت ہانگ کانگ کو کافی حد تک چین سے خود مختاری حاصل ہے۔
ہانگ کانگ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔
ایک حکومتی ترجمان کے بقول انھیں چین کی جانب سے جواب کا انتظار ہے۔
’سیاسی اغوا نامنظور‘ کے نعرے لگاتے ہوے ہزاروں مظاہرین نے ہانگ کانگ میں بیجنگ کے نمائندے کے دفاتر کی جانب مارچ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمہوریت پسند سیاستدان البرٹ چن کا بی بی سی سے بات کرتے ہوے کہنا تھا کہ ’ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ہانگ کانگ کے قانون کی اتنی واضح خلاف ورزی کی گئی ہو، یہ ایک ملک دو نظام کے اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں احتجاج کر رہے ہیں۔‘
ہانگ کانگ کے جمہوریت پسند سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو اغوا کر کے چین لے جایا گیا ہے۔
گمشدہ افراد میں سے چار گزشتہ برس اکتوبر میں لاپتہ ہوئے تھے جبکہ پانچواں شخص جس کا نام ’لی‘ بتایا جاتا ہے، برطانوی شہریت بھی رکھتا ہے اور سال کے آخری ایام سے لاپتہ ہے۔
حکومتِ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اسے لی کی گمشدگی پر گہری تشویش ہے اور چینی حکومت سے اس بارے میں معلومات فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔







