چینی ترانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے پر ہانگ کانگ پر جرمانہ

فیفا نے مستقبل میں ایسے واقعات پیش آنے پر مزید سخت پابندیاں لگائے جانے کا کہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفیفا نے مستقبل میں ایسے واقعات پیش آنے پر مزید سخت پابندیاں لگائے جانے کا کہا ہے

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے ہانگ کانگ کے شائقین کی جانب سے گذشتہ ماہ میچ کے دوران چینی قومی ترانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے پر ہانگ کانگ فٹبال ایسوسی ایشن پر 40 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

قطر کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچ کے دوران تماشائیوں کی جانب سے میدان میں کوئی چیز پھینکنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔

فیفا انتظامیہ اس سے قبل بھی ہانگ کانگ فٹبال ایسوسی ایشن کو ناپسندیدگی کا اظہار کرنے پر خبردار کر چکی ہے۔

سنہ 1997 میں ہانگ کانگ کا چین کے کنٹرول میں دوبارہ آنے کے بعد سے چین اور ہانگ کانگ کا ترانہ ایک ہی ہے۔

تاہم ہانگ کانگ میں گذشتہ سال مرکزی حکومت کی جانب سے اپنی حدود میں انتخابات کے لیے نمائندوں کی فہرست کے معاملے پر شدید مظاہروں کے بعد سے بیجنگ مخالف احساسات میں اضافہ ہوا ہے۔

ہانگ کانگ فٹبال ایسوسی ایشن کی ترجمان سارا لی کا کہنا ہے کہ ’میدان میں جو چیز پھینکی گئی تھی اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ لیموں چائے کا ڈبا ہو سکتا ہے اور وہی اس سزا کی اہم وجہ بھی بنا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔

’ہم شائقین کو تو کوئی سزا نہیں دے رہے ہیں لیکن کوشش کریں گے کہ وہ آئندہ ناپسندیدگی کا اظہار نہ کریں۔‘

ہانگ کانگ فٹبال ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فیفا نے مستقبل میں ایسی خلاف ورزیوں کے بعد سخت پابندیاں لگانے کا کہا ہے اور مزید سزا سے بچنے کے لیے آئندہ میچوں میں ایسا کرنے سے اجتناب کیا جائے۔‘

.