فیفا کے سابق اعلیٰ عہدیدار جیک وارنر پر تاحیات پابندی

،تصویر کا ذریعہReuters
فٹبال کی عالمی تنظیم کی ضابطۂ اخلاق کمیٹی نے تنظیم کے سابق نائب صدر جیک وارنر پر فٹ بال سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کر دی ہے۔
72 سالہ جیک وارنر کا تعلق ٹرینیڈاڈ سے ہے اور وہ کیریبیئن، شمالی اور وسطیٰ امریکی فٹ بال کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے سنہ 2011 میں فیفا کی نائب صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
وہ اس وقت لاکھوں ڈالر رشوت لینے کے الزام میں مقدمے کے لیے امریکہ کے حوالے کیے جانے کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔
فیفا کی اخلاقی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وارنر مسلسل اور بار بار ضابطۂ کار کی خلاف ورزیوں کے مرتکب پائے گئے۔
فیفا کا یہ فیصلہ ان تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے جس میں سنہ 2018 اور 2022 کے ورلڈ کپ مقابلوں کی بولی کے عمل کی تفتیش کی گئی تھی۔
اس تفتیش میں رواں سال کے جنوری میں وارنر کی سرگرمیوں کی نگرانی کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
منگل کو فیفا نے کہا کہ جیک وارنر کو فیفا کے اخلاقی قوانین کی خلاف کئی بار ورزی کرنے پر مجرم پایا گیا تھا۔
فیفا نے ایک بیان میں کہا ’فٹ بال میں اپنے عہدے کی وجہ سے جیک وارنر ان تمام منصوبوں میں ملوث تھے جن میں بولی لگانا، ، منظوری دینا، نامعلوم اور غیر قانونی ادائیگیوں کی وصولی کرنا اور پیسے بنانے والے دیگر منصوبے بھی شامل تھے۔‘
گذشتہ ہفتے سوئس استغاثہ نے فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کے خلاف مجرمانہ معاملے میں تحقیقات شروع کی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان تحقیقات کا مرکز یہ وہ معاہدہ ہے جو سنہ 2005 میں نشریات کے حقوق پر فیفا اور وارنر کے درمیان کیا گیا تھا۔
امریکہ وارنر اور 13 دیگر سابق اور موجودہ فیفا اہلکاروں پر مقدمہ کرنا چاہتا ہے جن پر مئی میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ کسی بھی ورلڈ کپ کی میزبانی کی بولی کے لیے وارنر کی حمایت حاصل کرنا بہت ضروری ہوتا تھا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ وارنر دو دہائیوں سے مجرمانہ بدعنوانیوں میں ملوث تھے۔
وارنر کو فٹ بال کے سب سے طاقتور اہلکاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔



