’دولتِ اسلامیہ‘ کی نئی ویڈیو میں برطانوی شہری سدھارتھ دھار

،تصویر کا ذریعہTwitter
بی بی سی کو یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی حالیہ پراپیگنڈا ویڈیو میں دکھائی دینے والے اہم مشتبہ شخص کی شناخت کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ برطانوی شہری سدھارتھ دھار ہیں۔
’دولت اسلامیہ‘ کی جانب سے پانچ افراد کے قتل کی ویڈیو میں شامل سدھارتھ دھار سکیورٹی اداروں کی تفتیش کا اہم مرکز ہیں۔
دولت اسلامیہ کا کہنا ہے قتل کیے گئے یہ پانچ افراد برطانوی جاسوس تھے۔
ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بہت سارے لوگوں کہ خیال میں یہ وہی ہے۔‘ تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔
سدھارتھ دھار ابو رومائسہ کے نام سے جانے جاتے تھے۔
انھیں سنہ 2014 میں حراست میں لیا گیا تھا تاہم ضمانت حاصل کرنے کے بعد وہ شام چلے گئے۔
سدھارتھ دھار کا تعلق لندن کے علاقے والتھمسٹو سے تھا، وہ ہندو تھے اور اسلام قبول کرنے کے بعد شدت پسند گروہ المہاجرون میں شامل ہوگئے تھے۔
اس سے قبل ان کے دوست نے بی بی سی کوبتایا تھا کہ انھیں بتایا تھا کہ انھیں اس بارے میں ’کوئی شک نہیں‘ ہے کہ ویڈیو میں سنائی دی جانے والی آواز سدھارتھ دھار کی ہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

سدھارتھ دھار کی بہن نے بی بی سی بتایا کہ جب انھوں پہلی بار ویڈیو میں شامل آڈیو سنی تو انھیں خدشہ ہوا کہ یہ ان کا بھائی تھا، تاہم ویڈیو دیکھنے کے بعد وہ اس بارے میں پریقین نہیں ہیں۔
کونیکا دھار کا کہنا ہے: ’میں سکتے کی کیفیت میں تھی۔‘
’مجھے آڈیو میں مماثلت محسوس ہوئی، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، یہ میرے بھائی کی آواز تھی لیکن یہ چھوٹا سا کلپ تفصیل سے دیکھنے کے بعد، میں مکمل طور پر قائل نہیں ہوں جس سے مجھے اطمینان ہے۔‘
خیال رہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ایک نوجوان لڑکا اور ایک آدمی برطانوی لہجے بول رہے تھے۔ اس ویڈیو میں برطانیہ کے لیے جاسوسی کرنے والے پانچ افراد کی ہلاکت دکھائی گئی تھی۔
دس منٹ کے دورانیے پر مشتمل ویڈیو میں موجود شخص برطانیہ پر حملوں کی دھمکی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ڈیویڈ کیمرون کے نام پیغام ہے۔
بعد میں ایک لڑکا دکھائی دیتا ہے جس کی آزاد ذرائع سے کوئی شناخت نہیں ہو سکی۔ وہ غیر مسلموں کو مارنے کے بارے میں بات کرتا ہے۔







