لندن کے ٹریفیلگر سکوائر میں پیلمائرا کی محراب

،تصویر کا ذریعہInstitue of Digital Archeology
شام کے قدیم شہر پیلمائرا کی ایک یادگاری محراب کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ہاتھوں تباہی کے بعد اس کی نقل لندن کے ٹریفیلگر سکوائر میں دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔
دو ہزار سال پرانی یہ محراب بیل کے معبد کے باقی رہ جانے والے آخری آثارِ قدیمہ میں سے ایک تھی۔
یہ معبد شام میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے، جس پر مئی میں دولت اسلامیہ نے قبضہ کر لیا تھا۔
اس محراب کو تصاویر اور تھری ڈی پرنٹر کا استعمال کرتے ہوئے دوبارہ تخلیق کیا جائے گا۔
اس منصوبے پر کام کرنے والے ادارے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیجیٹل آرکیالوجی کو امید ہے کہ یہ محراب ثقافتی ورثے کی اہمیت کی طرف توجہ دلائے گی۔
دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے پیلمائرا میں اسلام سے قبل کے اس جیسے بہت سے قدیم مقامات پر قبضہ کر کے ان کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مقامات اور آثار بت پرستی کی علامات ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیجیٹل آرکیالوجی سے تعلق رکھنے والی الیکسی کیرینوسکا کا کہنا ہے کہ ان کو امید ہے کہ ’اس سے لوگوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ شام جیسے جنگ زدہ علاقوں میں تاریخی مقامات کی حفاظت کتنی ضروری ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ.
انھوں نے کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ جہاں اتنی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں وہاں کیا ہمیں ان چیزوں کے لیے پریشان ہونے کی ضروت ہے؟
’میں مانتی ہوں کہ ان چیزوں کی اہمیت انسانی زندگی کے بعد آتی ہے۔ لیکن یہ ثقافتی ورثہ آپ کو اپنی زمین اور کمیونٹی کی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے بہت ضروری ہے۔‘
یہ 15 میٹر اونچی محراب شام اور برطانیہ کے مشترکہ ورثے کی مثال بھی ہو گی۔ پیلمائرا کی اس محراب کے یونانی اور رومن طرز تعمیر کو برطانیہ کی نیو کلاسیکل عمارتوں نیشنل آرٹ گیلری اور نیلسن کالم میں بھی دہرایا گیا ہے۔
ادارے کا ارادہ ہے کہ اس محراب کو اپریل میں ورلڈ ہیریٹیج ویک کے دوران ٹریفیلگر سکوئر پر نمائش کے لیے رکھ دیا جائےگا۔ اسی طرح کی ایک محراب نیویارک کے ٹائمز سکوائر پر بھی رکھی جائے گی۔
دی انسٹیٹیوٹ آف ڈیجیٹل آرکیالوجی امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی، برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور دبئی کے میوزیئم آف دی فیوچر کی مشترکہ کاوش ہے۔ فی الحال یہ ادارہ پورے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں لوگوں کو رضاکارانہ طور پر تھری ڈی کیمرے دے رہا ہے تاکہ وہ ان مقامات کی تصاویر کھنچ سکیں جن کو خطرہ ہو سکتا ہے۔







