دو ہزار سال پرانے مقبرے دولت اسلامیہ کے ہاتھوں تباہ

ان مقبروں میں ایک قدیم مقبرہ ’الاہبل‘ بھی شامل تھا جس کی تعمیر 103 سنہ عیسوی صدی میں کی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنان مقبروں میں ایک قدیم مقبرہ ’الاہبل‘ بھی شامل تھا جس کی تعمیر 103 سنہ عیسوی صدی میں کی گئی تھی

شام کے نوادرات کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کھلانے والی شدت پسند تنظیم کے جنگجؤں نے پیلمائرا کے کھنڈرات میں واقع تین مقبروں کو تباہ کر دیا ہے۔

مامون عبدالکریم نے کہا کہ ان مقبروں میں ایک قدیم مقبرہ ’الاہبل‘ بھی شامل تھا جس کی تعمیر سنہ 103 عیسوی صدی میں کی گئی تھی اور یہ سارے مقبروں میں سب سے زیادہ محفوظ تھا۔

بھُربھُرے پتھر سے بنی یہ کئی منزلہ عمارتیں شہر کی دیواروں سے باہر واقع تھیں اور پیلمائرا کے امیر ترین خاندان ان کے مالکان تھے۔ انھیں ’مقبروں کی وادی‘ یا ’ویلی آف دا ٹومز‘ کہتے تھے۔

ان کی تباہی سے صرف کچھ دن قبل نام نہاد دولت اسلامیہ نے پیلمائرا کے کھنڈرات میں واقع دو اہم ترین معبدوں کو بھی تباہ کر دیا تھا۔

دولت اسلامیہ نے مئی میں سرکاری فورسز سے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ان مقامات پر قبضہ کیا تھا۔اس شدت پسند تنظیم نے پہلے بھی پیلمائرا کے قریب واقع دو اسلامی مزاروں کو یہ کہتے ہوئے تباہ کیا تھا کہ یہ ’غیر اسلامی فعل‘ ہیں۔

مقبروں کی وادی کہلائی جانے والی یہ جگہ اس’ یونانی رومن‘ شہر کے کھنڈرات کے جنوب مغربی علاقوں میں واقع ہے اور اس میں کئی سائز کے مقبرے پائے جاتے ہیں۔

دولت اسلامیہ نے مئی میں سرکاری فورسز سے یونیسکو کے اس عالمی ثقافتی ورثہ مقام پر قبضہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندولت اسلامیہ نے مئی میں سرکاری فورسز سے یونیسکو کے اس عالمی ثقافتی ورثہ مقام پر قبضہ کیا تھا

مقبروں کی عمارتوں کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا جن میں پتھروں کے تابوت ڈال کر انھیں بڑے پتھروں سے بند کیا جاتا تھا جن پر مرنے والے شخص کی تصویر بنائی جاتی تھی۔

الاہبل کا مقبرہ ان سب میں سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ اس کی چار منزلیں تھیں اور اس میں مبینہ طور پر 300 پتھر کے تابوت لگائے جا سکتے تھے۔

مامون نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھیں دس دن قبل اطلاعات ملی تھیں کہ ’سب سے خوبصورت اور محفوظ‘ مقبروں کو تباہ کیا گیا ہے۔ لیکن انھوں نے اس خبر کی صرف تصدیق کی۔

انھوں نے کہا ’ہمیں دو ستمبر کو امریکہ میں مقیم شامی ثقافتی ورثہ انیشی ایٹو سے سیٹلائٹ تصاویر حاصل ہوئی تھیں۔

یاد رہے کہ چند دن قبل ہی شام کے اس معروف قدیمی شہر میں رومی دور کے آثار کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کو قتل کر دیا گیا تھا۔

مقتول نگران خالد الاسد کے اہلِ خانہ نے شامی آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر کو بتایا کہ ان کا سر قلم کیا گیا تھا۔

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ارینا بوکووا کا کہنا ہے کہ اس منظم طریقے سے پیلمائرا کی تباہی ایک ’جنگی جرم‘ ہے۔ انھوں نے دولتِ اسلامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ شامی لوگوں سے ان کی شناخت، ثقافت اور ان کے ماضی کو چھین رہے ہیں۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے پیلمائرا کے سابق ماہرِ آثارِ قدیمہ خالد الاسعد کے قتل پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا ہے، جنھوں نے شدت پسندوں کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

نام نہاد دولت اسلامیہ نے عراق میں اسلام کی تاریخ سے پہلے کی کئی قدیم یادگاروں کو بھی تباہ کیا ہے۔

بہر حال دولت اسلامیہ کے مالی وسائل کا ایک اہم ذریعہ نوادرات کو لوٹ کر ان کی فروخت کرنا ہے۔ دولت اسلامیہ پر یہ بھی الزام عائد ہے کہ یہ قدیم مقامات کو شہرت حاصل کرنے کے لیے تباہ کرتا ہیں۔

شامی حکام نے پیلمائرا میں دولت اسلامیہ کی پیش قدمی سے پہلے ہی سینکڑوں انمول اشیا اور مجسموں کو ہٹا دیا تھا۔