’بل نامی قدیم معبد کی تباہی کی خبریں درست نہیں‘

،تصویر کا ذریعہ
شام میں آثارِ قدیمہ اور نوادرات کے محکمے کے سربراہ نے ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے پیلمائرا کے کھنڈرات میں واقع بل نامی اہم ترین معبد کو دھماکہ کر کے تباہ کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے عالمی ثقافتی ادارے یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دی جانے والے ان کھنڈرات میں واقع بل نامی اس قدیم عبادت گاہ کی کم از کم جزوی تباہی کی خبریں عینی شاہدین اور مقامی افراد کی جانب سے اتوار کو ملی تھیں۔
اس وقت بھی یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ دو ہزار سال قدیم معبد کو کس حد تک نقصان پہنچایا گیا ہے۔
بل کا معبد پہلی سنہِ عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ عبادت گاہ پیلمائرا کے خدا کے لیے مختص تھی۔
شامی آثارِ قدیمہ کے سربراہ مامون عبدالکریم نے پیر کو کہا ہے کہ ان کے پاس جو اطلاعات ہیں ان کے مطابق بل کا معبد اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
انھوں نے اس معبد کے مقام پر ایک دھماکے کی تو تصدیق کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ پیلمائرا سے ملنے والی اطلاعات یہی کہہ رہی ہیں کہ معبد ابھی تباہ نہیں ہوا۔
اس سے قبل دولتِ اسلامیہ کے اس تازہ حملے کے بارے میں پیلمائرا کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا تھا کہ ’مکمل تباہی ہے۔ انیٹیں اور ستون زمین بوس ہو گئے ہیں۔ یہ ایسا دھماکہ تھا کہ کوئی بہرا بھی اسے سن سکتا تھا۔ صرف عبادت گاہ کی دیوار ہی باقی بچی ہے۔‘

بل معبد کی تباہی کی خبر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں پیلمائرا میں ہی واقع بعل شمین کی عبادت گاہ کی دھماکے سے تباہی کے ایک ہفتے بعد سامنے آئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دولتِ اسلامیہ نے رواں سال مئی میں پیلمائرا پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد اس تاریخی ورثے کے بارے خدشات بڑھ گئے تھے۔
یونیسکو نے تاریخی ورثے کے تباہی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’جنگی جرائم‘ کے مترادف ہے۔
خیال رہے کہ شام میں خانہ جنگی سے قبل تک پیلمائرا کے یہ آثارِ قدیمہ دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز تھے۔
مشرقِ وسطیٰ کے ثقافتی ورثے پر لکھنے والی مصنفہ ڈیانا درکی نے بی بی سی کو بتایا کہ بعل نامی عبادت گاہ بہت بڑی تھی، جسے قلعے، گرجا گھر اور مسجد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ ہر سال یہاں دنیا بھر سے ڈیڑھ لاکھ سیاح آتے تھے۔
شام کی فوج نے حالیہ مہینوں کے دوران دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کی ہے اور اس کے آس پاس کے قصبوں میں شدید جنگ جاری ہے لیکن یہ تنظیم پیلمائرا پر ابھی تک قابض ہے۔







