برطانوی دارالعوام کے سپیکر کی تنخواہ وزیرِ اعظم سے بھی زیادہ

،تصویر کا ذریعہPA
برطانیہ میں دارالعوام کے سپیکر جان برکاؤ اب ملک کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے بھی زیادہ تنخواہ لیتے ہیں۔
ان کی تنخواہ وزیرِ اعظم کی تنخواہ سے اس لیے بڑھی ہے کہ انھوں نے تنخواہ میں اضافہ قبول کیا تھا۔ پہلے ہی انھیں دس فیصد اضافی تنخواہ ملتی ہے جو بطور رکنِ پارلیمان سبھی کے لیے ہوتی ہے۔
مسٹر برکاؤ کی سالانہ تنخواہ دارالعوام کی ویب سائٹ کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار دو سو چھتیس پاؤنڈ ہے جبکہ وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی سالانہ تنخواہ ایک لاکھ انچاس ہزار چار سو چالیس پاؤنڈ ہے۔
تاہم وزیرِ اعظم اور وزرا کے برعکس، سپیکر نے اپنے سرکاری عہدے کے لیے صفر اعشاریہ چھ دو فیصد اضافہ بھی قبول کیا ہے۔
ان کی تنخواہ میں اضافہ سینیئر سول سرونٹس کو ہر پارلیمان کے آخر میں اوسطاً ملنے والے اضافے کے مطابق ہے۔
ڈیوڈ کیمرون نے بطور وزیراعظم اپنی پینشن کا ’نان کنٹربیوٹری‘ نصف تنخواہ کا حصہ چھوڑ دیا ہے لیکن مسٹر برکاؤ نے اسے اپنے پاس رکھا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ 65 سال کی عمر تک اسے نہیں نکلوائیں گے۔
مزید یہ کہ وزیراعظم کے برعکس مسٹر برکاؤ کے گھر کا ٹیکس ان کی تنخواہ سے نہیں کٹتا۔
مسٹربرکاؤ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’سپیکر کی تنخوا پہلے ہی پارلیمان کی ویب سائٹ پر شائع کر دی گئی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ایسی صورتحال میں، اس میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ انٹیپیڈنٹ پارلیمنٹری سٹینڈرز اتھارٹی کی منظوری کے بعد رکن پارلیمان جولائی سے دس فیصد زیادہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔







