اپنی زندگی کے خاتمے سے متعلق قانون سازی ناکام

،تصویر کا ذریعہ
برطانوی دارالعوم نے ایک ایسے مجوزہ قانون کو بھاری اکثریت سے رد کردیا ہے جس میں لاعلاج بیماری میں مبتلا کسی بھی بالغ شخص کو اپنی زندگی کے خاتمے سے متعلق فیصلہ کرنے کا حق مل سکتا تھا۔
برطانوی دارالعوام نے بیس برسوں بعد اس موضوع پر بحث کی ہے۔
دارالعوام میں پارٹی کی وابستگی سے بالا تر ہو کر قانون پر رائے شماری کرائی گئی جس میں 330 ممبران نے اس مجوزہ قانون کے خلاف جبکہ 118 ممبران نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا۔
اس مجوزہ قانون میں تجویز کیا گیا تھا کہ انگلینڈ اور ویلز میں لاعلاج بیماری میں مبتلا بالغ افراد کو طبی نگرانی میں اپنی جان کو ختم کرنے کا حق ملنا چاہیے۔
برطانوی دارالعوم میں ہونے والی بحث میں بعض ممبران نے انتہائی جذبات انداز میں تقاریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون انسان کو وقار کے ساتھ اپنی زندگی کو ختم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
برطانیہ میں انگلش لا کے تحت اپنی زندگی کا خاتمہ قتل تصور کیا جاتا ہے۔سویسائڈ (خود کشی) ایکٹ 1961 کے تحت انگلینڈ اور ویلز میں خود کشی کی حوصلہ افزائی کرنا یا اس میں مدد کرنا بھی جرم تصور کیا جاتا ہے اور ایسے شخص کو 14 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
شمالی آئرلینڈ میں تقریباً انگلینڈ اور ویلز میں نافذ جیسا قانون موجود ہے لیکن سکاٹ لینڈ میں ایسا قانون موجود نہیں ہے لیکن خودکشی میں مدد کرنے والے شخص کے خلاف انسانی قتل کے قوانین کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔
لبیر پارٹی کے رکن روب مارس نے دارالعوم میں قانون پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موجود قانون لاعلاج بیماریوں میں مبتلا شہریوں، خاندانوں اور طبی شعبے کی ضرویات پر پورا نہیں اترتا۔ انھوں نے کہا کہ معاشرے کے رویے بدل چکے ہیں اور انگلینڈ میں اس ایسے قانون کی ضرورت ہے جو ایسے بالغ افراد کو وقار کے زندگی ختم کرنے کا اختیار دے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قانون کے مخالفین نے بھی اتنے ہی جذباتی انداز میں اس قانون سازی کی مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ انسانی جان کے خاتمے کے حق سے متعلق کوئی قانون بھی قابل قبول نہیں ہے۔
مجوزہ قانون کی مخالف فائونا بروس نے کہا کہ اس قانون میں معاشرے کے کمزور افراد کے لیےتحفظ موجود نہیں ہے۔ اپنی جذباتی تقریر میں فائونا بروس نے کہ ہم یہاں معاشرے کے کمزور افراد کی حفاظت کے لیے ہیں نہ کہ ان کی ہلاکت کےلیے قانون بنانے کے لیے۔ انھوں نے کہا کہ اس قانون میں نہ صرف نقائص ہیں بلکہ اسے نہ تو قانونی اور نہ ہی اخلاقی طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔‘
ماضی میں برطانوی پارلیمنٹ نے ایسے قوانین کو منظور نہیں کیا تھا اور پچھلی مرتبہ 1997 میں اس پر ووٹنگ ہوئی تھی۔







