درخت کاٹنے پر ایک لاکھ جرمانہ

،تصویر کا ذریعہAFPGetty Images
ایک فرانسیسی شیف جنھوں نے ماحولیاتی کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کے لیے کھانے تیار کیے تھے، پر اپنے ہی ریستوران کے اردگرد لگے درختوں کو کاٹنے پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
شیف کو حال ہی میں پیرس میں عالمی ماحولیاتی کانفرس کے دوران کام پر رکھا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے ریستوران کے قریب وہ درخت کاٹ دیے جنھیں محفوظ شمار کیے جانے والے درختوں کی فہرست میں رکھا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ شیف نے سات ہزار مربع میٹر پر پھیلے ہوئے جنگل کو ختم کیا تھا۔
مارک ویریٹ نے فرانس کے پہاڑی علاقے کے قریب’لا مینشن ڈیس بوئس‘ کے قریب (جسے درختوں کا گھر کہا جاتا ہے) درختوں کو کاٹا تھا۔
اینیسی میں عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ویریٹ نے اس زمین کو بھی خشک کرایا جس میں نمی پائی جاتی تھی۔
عدالت نے شیف کو حکم دیا کہ وہ ایک لاکھ یور جرمانہ ادا کریں اور ساتھ ہی ساتھ انھیں تین ماہ کے اندر اندر اس زمین کو پرانی صورت میں بحال کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے جس کی نمی کو انھوں نے خشک کرایا تھا۔
مسٹر ویریٹ نے، جنھیں بہتر کارکردی پر دو مرتبہ میشلِن سٹار ملا ہے، عدالت کو بتایا کہ ان کا ارادہ برا نہیں تھا کیونکہ انھوں نے وہاں بچوں کے لیے تعلیمی مرکز قائم کیا۔انھوں نے مینیگوڈ کے مقام پر پودوں پر تحقیق کے لیے باغ بنوایا، شہد کی مکھیوں کے چھتے لگوائے اور گرین ہاؤس تیار کرایا۔
سماعت کے بعد مسٹر ویریٹ نے معافی مانگی اور کہا: ’میں قانون سے بالا تر نہیں ہوں۔ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے، مجھ سے بھی۔‘
پیرس میں ماحولیاتی کانفرنس میں مذاکرات کے بعد شریک ممالک نے اس مقصد پر اتفاق کیا تھا کہ حرارت میں اضافے کو دو درجے سے کم رکھا جائےگا اگرچہ کوشش یہ ہوگی کہ درجۂ حرارت ایک اعشاریہ پانچ سے اوپر نہ جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن ایک تحقیق کے مطابق زہریلی گیسوں میں انسانوں کی وجہ سے ہونے والے اضافے میں درختوں کا کاٹا جانا خرابی کی دوسری بڑی وجہ ہے اور اس سے درجۂ حرارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔







